امریکا کی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک چرچ پر مسلح شخص کی فائرنگ سے 3بچے ہلاک اور 17 افراد زخمی ہوگئے۔
یہ افسوسناک واقعہ بدھ کے روز اینو نسی ایشن چرچ میں اُس وقت پیش آیا جب طلبہ عبادت میں شریک تھے اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر پہلی ہفتہ وار تقریب منعقد کی جارہی تھی۔
منیاپولس پولیس کے سربراہ برائن اوہارا کے مطابق حملہ آور ایک 20 سالہ نوجوان تھاجس نے رائفل، شاٹ گن اور پستول سمیت متعدد ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد اس نے چرچ کی پارکنگ میں خودکشی کرلی۔ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں آٹھ اور دس سال بتائی گئی ہیں۔ زخمیوں میں 14 بچے بھی شامل ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
گورنر ٹم والز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ طلبہ اور اساتذہ کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ ہے۔
پولیس سربراہ اوہارا نے اسے معصوم عبادت گزاروں کے خلاف دانستہ اور بزدلانہ حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ کے اندر بیٹھے بچوں پر گولیاں برسانا انسانیت کے خلاف انتہائی سفاکانہ عمل ہے۔
The cruelty of firing into a church full of children is unthinkable. Yet here we are. As Minneapolis @MayorFrey reminded us, “thoughts and prayers” are not enough. Families deserve real assurances of safety—and the GOP is failing them. 💔 pic.twitter.com/7Zmn9n26N0
— Areva Martin, Esq. (@ArevaMartin) August 27, 2025
منیاپولس کے میئر جیکب فری نے عوام سے اپیل کی کہ صرف دعاؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کو روکا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے چرچ میں عبادت کر رہے تھے، انہیں خوف کے بجائے امن، تعلیم اور کھیل ملنے چاہیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور تصدیق کی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی صورتحال پر فوری ردعمل دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اس المناک واقعے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








