پنجاب میں سیلاب سے درجنوں اضلاع متاثر، 25 افراد جاں بحق

تازہ ترین

تازہ ترین

Raging riverine flooding claims at least 25 lives in Punjab
ONLINE/ FILE PHOTO

لاہور: پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

غیر معمولی مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی چھوڑنے کے باعث کئی اضلاع پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ گوجرانوالہ ڈویژن میں 15 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ گجرات میں چار، نارووال میں تین اور حافظ آباد میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

سیلاب نے قصور، نارووال اور پنڈی بھٹیاں سمیت کئی علاقوں میں درجنوں دیہات کو زیرِ آب کر دیا ہے جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

شدید پانی کے ریلوں نے مویشی بہا دیے اور کھڑی فصلیں تباہ کر ڈالیں۔ بہاولنگر میں کئی مکانات منہدم ہوگئے جبکہ چنیوٹ اور وزیرآباد میں دریائے چناب کے پانی نے متعدد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوچکی ہے جہاں بہاؤ ایک لاکھ 45ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ جسّر پر یہ بہاؤ ایک لاکھ باون ہزار کیوسک تک جا پہنچا۔

لاہور کے کمشنر نے بتایا کہ دریائے راوی کا بلند ترین ریلا گزر چکا ہے اور اب پانی کی سطح میں کمی کا امکان ہے، تاہم شہر کی صورتحال قابو میں ہے۔

دریائے چناب میں خانکی اور قادرآباد بیراج پر انتہائی بلند سطح کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ بالترتیب 8لاکھ 59ہزار اور نو لاکھ 96ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔

ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 91ہزار کیوسک ہے۔ حکام نے قریبی علاقوں کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

دریائے ستلج میں بھی کئی مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 61ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 9ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

چشتیاں میں طاقتور ریلوں کے باعث چھ حفاظتی پشتے ٹوٹ گئے جس سے 300 سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے اور سات ہزار ایکڑ سے زیادہ فصلیں تباہ ہوگئیں۔

مقامی کسانوں نے گھروں کو بچانے کے لیے آٹھ کلومیٹر طویل پشتہ تعمیر کیا ہے، مگر حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو 20ہزار سے زائد مکانات خطرے میں آ سکتے ہیں۔

بہاولنگر میں صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے جہاں 105 سے زائد دیہات متاثر اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے دوچار ہیں۔

تقریباً 90 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں، جبکہ کئی علاقے اب بھی مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ تیز رفتار پانی نے عارضی پشتوں کو نقصان پہنچایا، مکانات گر گئے اور کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں۔

Related Posts