یوکرین جنگ سے آگے: دنیا کا نیا معاشی نقشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Trump’s Gaza Plan: A Peace Built on Surrender, Not Justice

یوکرین کی جنگ صرف میزائلوں اور توپوں سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ یہ ٹیرف پالیسیوں، تیل کی ترسیل اور کرنسی کی جنگوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے بھارت پر تجارتی پابندیاں اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن کی پابندیوں کی پالیسی الٹا اثر ڈال رہی ہے اور عالمی تجارت کو تقسیم کر رہی ہے۔ جو معاملہ کیف سے شروع ہوا تھا، وہ اب عالمی معیشت کے قواعد ازسرِنو لکھنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

فروری 2022 میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو مغربی دنیا نے اسے روکنے کے لیے کچل دینے والی پابندیوں کا اعلان کیا۔ روس کو عالمی مالیاتی نظام سے کاٹ دیا گیا، مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کر دیے گئے اور بڑے پیمانے پر برآمدات پر پابندی لگائی گئی۔

مقصد یہ تھا کہ روس کو معاشی طور پر تنہا کر کے فوجی پسپائی پر مجبور کیا جائے لیکن تین سال بعد منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ روس نہ صرف معاشی طور پر قائم ہے بلکہ اس نے مشرق کی طرف رخ کر لیا ہے۔

تیل اور گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ اب چین، بھارت اور ترکی جا رہا ہے۔ ادھر یورپ نے روسی گیس کے متبادل ڈھونڈنے پر بھاری اخراجات کیے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا۔

امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھارت کی پالیسی ہے۔ دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک نے اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روسی تیل رعایتی نرخوں پر خریدنا شروع کیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ 2022 سے بھارت کی روسی تیل درآمدات میں دس گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت روسی خام تیل درآمد کر کے اسے ریفائن کرتا ہے اور پھر ڈیزل جیسی مصنوعات یورپ کو برآمد کرتا ہے، یعنی بالواسطہ طور پر یورپی معیشتیں بھی روسی تیل پر چل رہی ہیں۔

واشنگٹن نے اب بھارتی برآمدات پر ٹیرف عائد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ روس سے تجارتی تعلقات رکھنے کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ لیکن اس اقدام سے بھارت مزید ماسکو اور بیجنگ کے قریب جا سکتا ہے، جو امریکہ کی انڈو-پیسفک حکمت عملی کے برعکس ہے۔

بھارت واحد ملک نہیں ہے۔ ترکی نے ماسکو کے ساتھ تجارت دوگنی کر دی ہے، خلیجی ریاستیں توانائی کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہیں اور لاطینی امریکہ تک میں روسی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔

یہ صورتحال محض وقتی فائدہ نہیں بلکہ ایک متوازی عالمی معیشت کی بنیاد ہے، جہاں لین دین ڈالر کے بجائے روبل، یوان اور روپے میں ہونے لگا ہے۔

برکس ممالک بھی کھلے عام ڈالر کے متبادل تجارتی نظام پر غور کر رہے ہیں۔ یعنی جتنا مغرب پابندیاں سخت کرتا ہے، اتنی ہی تیزی سے دنیا ان سے بچنے کے نئے راستے بنا رہی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے گلوبلائزیشن کا انحصار تین اصولوں پر تھا، آزاد منڈیاں،مربوط سپلائی چینز، مریکی قیادت والا مالیاتی نظام، یوکرین جنگ نے ان تینوں کو متزلزل کر دیا ہے۔

توانائی کی منڈیاں تقسیم ہو چکی ہیں، سپلائی چینز ایشیا اور افریقہ کی طرف منتقل ہو رہی ہیں اور عالمی مالیاتی نظام میں متبادل کرنسیوں کو جگہ مل رہی ہے۔

اگر دنیا دو بڑے معاشی و سیاسی بلاکس میں تقسیم ہو گئی ، ایک طرف امریکہ اور یورپ، دوسری طرف روس، چین اور بھارت — تو یہ نیا سرد جنگی دور حقیقت بن سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں بھارت پر امریکی ٹیرف صرف ایک تجارتی تنازعہ نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت کا اظہار ہے،واشنگٹن اپنی پابندیوں کے ذریعے روس کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عالمی معیشت کا پرانا ڈھانچہ ٹوٹ رہا ہے اور ایک کثیر قطبی نظام ابھر رہا ہے۔

یہ نیا نظام شاید مغرب کے لیے زیادہ غیر آرام دہ اور غیر یقینی ہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی معیشت کے اصول بدل رہے ہیں۔ یوکرین میں شروع ہونے والی جنگ اب تیل، تجارت اور کرنسی کی نئی صف بندی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور مغرب اس نئے عالمی نقشے کا واحد معمار نہیں رہا۔

Related Posts