اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے چیف جسٹس کے کردار وعدلیہ کی خودمختاری پر شدید تحفظات

تازہ ترین

تازہ ترین

IHC Judges raise serious concerns over judicial independence, CJ Dogar’s role
ONLINE

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کے کردار اور عدلیہ کی آزادی پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک تفصیلی خط جاری کیا ہے۔

یہ خط بدھ کو ہونے والے فل کورٹ اجلاس سے قبل سامنے آیا جس میں عدالتی انتظامی معاملات اور قانونی امور پر غور ہونا تھا۔

جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بے ضابطگیوں اور عدالتی اقدار کے کمزور ہوتے ہوئے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے اجلاس کو ایک ’’بہت دیر سے اٹھایا جانے والا قدم‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی وہ حیثیت جو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تھی، کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ماتحت عدلیہ پر آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت مؤثر نگرانی نہ ہونے اور مقدمات کی تقسیم میں شفافیت کی شدید کمی پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینئر ججز کو اہم بینچز سے الگ رکھنا عدلیہ پر عوامی اعتماد کو متاثر کر رہا ہے اور یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ہائی کورٹ آئینی حقوق کی حقیقی محافظ نہیں رہی۔

اسی تناظر میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے بھی ایک علیحدہ خط تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے ججز کے بیرون ملک سفر کے لیے چیف جسٹس سے این او سی لینے کی شرط کو غیر آئینی اور عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ججز کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کے مترادف کہا۔

ان خطوط نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندرونی اختلافات اور عدلیہ کی خودمختاری پر سنگین سوالات کو جنم دیا ہے، جن کا تعلق شفافیت، آزادی اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے۔

Related Posts