ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے اپنے اغوا کیس کے مرکزی ملزم حسن زاہد کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں، ایک نجی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حسن زاہد کو جیل سے رہا کیا گیا تو وہ لازمی طور پر بدلہ لے گا۔
سامعہ حجاب نے بتایا کہ ملزم نے ایک بار اپنے دوست کے سامنے ان پر تشدد کیا اور شادی سے انکار پر انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نے صرف اس وجہ سے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی کیونکہ میں نے اس سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی وہ حسن زاہد کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں اور یہ خوف ان کا پیچھا کرتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے پہلی ایف آئی آر درج کروائی تو اگلے ہی دن حسن زاہد بغیر نمبر پلیٹ کی کالی گاڑی میں اسلحہ کے ساتھ ان کے گھر کے باہر پہنچ گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، جس پر انہیں دوسرا مقدمہ بھی درج کروانا پڑا۔
سامعہ حجاب نے بتایا کہ وہ حسن زاہد کو چھ ماہ سے جانتی تھیں لیکن تین ماہ قبل اپنی دوست اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے بعد ان کا تعلق خراب ہونا شروع ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ثنا یوسف کے قتل کے بعد انہوں نے حسن سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے انہیں مسلسل دھمکانا اور ڈرانا شروع کردیا۔
انہوں نے ایک اور انکشاف کیا کہ حسن زاہد بار بار نکاح کے کاغذات لے کر آتا اور دستخط کرنے پر اصرار کرتا تھا۔ سامعہ حجاب نے کہا کہ میں نے اسے صاف انکار کیا کہ اس طرح نکاح نہیں ہوگا۔ میں چاہتی تھی کہ والدہ کی مشاورت کے ساتھ سب کے سامنے شادی ہو، نہ کہ خفیہ طریقے سے نکاح ہو۔
سامعہ حجاب نے اسلام آباد میں اپنے اغوا کی کوشش کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے دکھایا گیا کہ کس طرح ایک شخص نے انہیں زبردستی ایک سفید گاڑی میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ سامعہ کے مطابق یہ شخص حسن زاہد ہی تھا جو ان کے انکار کے بعد ان کا پیچھا کرنے لگا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کئی بار ان کے گھر آیا، موبائل فون چھین لیا اور واپس لینے کے لیے جب وہ گاڑی کے قریب پہنچیں تو اس نے زبردستی انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ایک دن کے اندر گرفتار کرلیا جو اس وقت جسمانی ریمانڈ پر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








