گلوکارہ قرۃ العین بلوچ دیوسائی میں ریچھ کے حملے میں زخمی، اب حالت کیسی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

‘Woh Humsafar Tha' singer Quratulain Balouch survives rare bear attack in Deosai
FILE PHOTO

اسکردو: پاکستان کی معروف گلوکارہ قرۃ العین بلوچ دیوسائی نیشنل پارک میں کیمپنگ کے دوران ریچھ کے حملے میں زخمی ہو گئیں۔

واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر اسکردو کے ریجنل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی دونوں بازوؤں پر زخم آئے ہیں تاہم وہ زندگی کے خطرے سے باہر ہیں۔

قرۃ العین بلوچ، جو وہ ہمسفر تھا جیسے مشہور ڈرامہ سیریل کے ٹائٹل سانگ کی بدولت ’ہم سفر گرل‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، اس وقت اسکردو کے سیاحتی مقامات کے سفر پر تھیں تاکہ علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کا مشاہدہ کر سکیں۔

دیوسائی نیشنل پارک تقریباً 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک حسین اور نایاب خطہ ہے جو مغربی ہمالیہ کی پہاڑیوں میں نانگا پربت کے مشرق میں واقع ہے۔

 

اس وادی کو دیوسائی کہا جاتا ہے، جو دو الفاظ دیو اور سائے سے مل کر بنا ہے، اور اس کی بلندی 3 ہزار 500 سے 5 ہزار 200 میٹر تک ہے۔ یہ علاقہ عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق ہمالیہ کی حیاتیاتی تنوع کے نمایاں مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

دیوسائی اپنی منفرد جنگلی حیات کے لیے مشہور ہے جس میں گولڈن مارموٹ، سرخ لومڑیاں اور نایاب براؤن بیئر شامل ہیں۔ ان جانوروں کا شکار سختی سے ممنوع ہے اور اسی مقصد کے تحت علاقے کو نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2023 میں یہاں ریچھوں کی آبادی تقریباً 75 پر برقرار رہی تھی تاہم ماہرین کے مطابق انسانی مداخلت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاحت ان کے قدرتی مسکن کو متاثر کر رہی ہے جس کے نتیجے میں خطرناک تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

قرۃ العین بلوچ نے 2011 میں ریشماں کے گانے آنکھیاں نوں رین دے کے کور سے شہرت حاصل کی اور بعدازاں کوک اسٹوڈیو میں پنچی (جل کے ساتھ)، سامی میری وار ، لَونگ گاچھا اور تھگیاں جیسے گانے پیش کیے۔ انہوں نے بھارتی فلم پنک کے لیے کاری کاری بھی گایا جس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر مقبول کیا۔

Related Posts