پنجاب میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کے واقعات تھم نہ سکے،تازہ ترین واقعے میں محمد افضل نامی شخص، جو خود کو ایک سرکاری ملازم اور شادی شدہ بچوں کا باپ بتاتا ہے، گلی میں کھڑی ایک کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرتا ہوا پکڑا گیا۔
ملزم کی اعترافی ویڈیو میں اس نے کہا کہ میں نے گلی سے گزرتے ہوئے بچی سے نازیبا حرکت کی۔ملزم کا کہنا تھا کہ جب سی سی ڈی کی ٹیم گرفتاری کے لیے پہنچی تو وہ فیکٹری کی چھت سے چھلانگ لگا بیٹھا، جس کے نتیجے میں وہی بازو ٹوٹ گیا جس سے اس نے شرمناک حرکت کی تھی۔
ایک اور سوفٹویئر اپڈیٹ۔ pic.twitter.com/i9JTKtPhis
— صحرانورد (@Aadiiroy2) September 4, 2025
محمد افضل نے ویڈیو میں متاثرہ بچی، والدین اور پوری قوم سے معافی مانگی، مگر اس اعتراف اور ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایسے ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس قسم کی حرکت کا سوچ نہ سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نازیبا حرکات کے بڑھتے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قانون پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاحات اور سخت سزائیں بھی وقت کی ضرورت ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








