سنبل بچے گی نہ گجراتن، پتلو پہلے جیل جائیگا پھر! سوشل میڈیا پر بے حیائی پھیلانے والوں کی شامت آگئی، جانتے ہیں اب کیا ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Obscenity on the Rise in Pakistan, Government Decides to Take Action
ONLINE

پاکستان میں بے حیائی اور سوشل میڈیا پر فحاشی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

معروف صحافی جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ ٹک ٹاک لائیو اور دیگر غیر اخلاقی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائی اسی ماہ شروع ہونے جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیالکوٹ کے ایک معروف ٹک ٹاکر جسے سوشل میڈیا پر مسٹر پتلو کے نام سے جانا جاتا ہے، بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہیں۔

اس ضمن میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں جبکہ پنجاب سمیت ملک بھر میں ایسے ٹک ٹاک ہوسٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

اس کارروائی کا مقصد غیر قانونی مالی سرگرمیوں کا خاتمہ اور عوام کو آن لائن جرائم سے محفوظ بنانا ہے۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر فحاشی اور عریانی میں ملوث ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

واضح رہے کہ ایم ایم نیوز گزشتہ کئی ماہ سے ملک میں سوشل میڈیا پر جاری بے ہودگی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور اپنی رپورٹس میں حکام کی توجہ اس جانب دلا رہا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا نے تفریح اور معلومات فراہم کرنے کے بجائے اب ایک خطرناک رجحان کو جنم دے دیا ہے، جہاں کھلے عام فحاشی اور بے حیائی کو لائیو شوز اور ویڈیوز کی شکل میں فروغ دیا جا رہا ہے۔

خاص طور پر ٹک ٹاک، لائیکی، انسٹاگرام اور یوٹیوب شارٹس جیسے پلیٹ فارمز پر یہ عمل اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ اب یہ ایک مکمل کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ان لائیو شوز میں سب سے زیادہ نمایاں نام سنبل ملک، صوفی گجراتن، صبا شاہ اور جیا راجپوت کے ہیں، جو شہرت اور مالی فائدے کے لیے کھلے عام غیر اخلاقی گفتگو اور حرکات کو براہِ راست نشر کرتی ہیں۔ ان کی ویڈیوز اور سیشنز ہزاروں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جو بدلے میں گفٹس، کوائنز اور ڈالرز کی صورت میں انہیں انعام دیتے ہیں۔ یوں فحاشی ایک منظم تجارت میں بدل چکی ہے۔

یہ صورتحال محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ علیزے سحر کی وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیو اسی سلسلے کی ایک مثال تھی، جس نے نوجوان نسل کو گہرے اخلاقی بحران میں مبتلا کر دیا۔ یہ ویڈیوز اور لائیو سیشنز نہ صرف ذہنی آلودگی پیدا کرتے ہیں بلکہ خاندانی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سنبل ملک، صوفی گجراتن، صبا شاہ، جیا راجپوت کے فحاشی کے مقابلے! سب سے آگے کون؟

ان پلیٹ فارمز پر صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی شریک ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ایمان، تنظیم ہنجرہ، بلی شلی، شکیل مہر، سنزیلہ خان، عائزہ خان، نمرہ، سارا، ملنگ، سینوریٹا، شیبا، علی بھائی، مومی، ماہ نور، وسیم، حیدر شاہ اور دیگر کئی نام شامل ہیں، جو روزانہ ایسے ہی سیشنز میں شریک ہو کر اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہیں۔والدین کی جانب سے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ رجحان مزید پھیل رہا ہے۔

اگر فوری طور پر اس فحاشی اور بے حیائی کے سیلاب کو نہ روکا گیا تو پاکستانی معاشرہ ایک ایسی دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا تقریباً ناممکن ہو گا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ ریاست، والدین اور سوشل میڈیا کے ماہرین مل کر ایک جامع حکمتِ عملی وضع کریں، جس میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد، پلیٹ فارمز کی موثر نگرانی اور خاندانی سطح پر بچوں کی تربیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Related Posts