لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں ممکنہ آٹے کے بحران کو روکنے کے لیے فوری طور پر ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے فیڈ ملز میں گندم کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تاکہ گندم کو فیڈ ملز کی جانب منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور 30 دن تک برقرار رہے گی، یعنی 3 اکتوبر تک اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب گندم صرف فلور ملز میں آٹے کی تیاری کے لیے استعمال ہوگی تاکہ عوام کو روٹی اور آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی فیڈ ملز کے پاس اس وقت 1 لاکھ 4 ہزار 184 میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جسے بطور پولٹری فیڈ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی تاہم حکومت نے عوامی ضرورت کو ترجیح دیتے ہوئے اس عمل پر مکمل روک لگا دی ہے۔
اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی عوامی مفاد میں ضروری ہے۔
دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر گندم کی درآمد سے متعلق فیصلہ نہ کیا گیا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین جنید عزیز کے مطابق عالمی منڈی میں گندم نسبتاً سستی دستیاب ہے لیکن پاکستان میں اس کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے آٹے کے نرخ بھی دباؤ میں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یعنی یکم اگست سے یکم ستمبر تک گندم کی قیمت میں فی کلو 35 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 62 روپے سے بڑھ کر 97 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں آٹے کی قیمت میں بھی فی کلو 29 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








