نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے ایک سرحدی گاؤں دارل جمال میں شدت پسندوں نے ایک انتہائی خونی حملہ کیا جس میں کم از کم 53 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح حملہ آوروں نے گاؤں میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی اور کئی گھروں کو آگ لگا دی۔ اس حملے میں 20 سے زائد مکانات اور 10 کے قریب گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب طویل عرصے سے نقل مکانی کے شکار لوگ حال ہی میں اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہوئے تھے لیکن شدت پسندوں کے اس حملے نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، اور پورا علاقہ ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں آ گیا۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ مقامی معیشت اور روزمرہ کی زندگی کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا۔
نائجیریا کی فوج نے واقعے کے بعد اعلان کیا ہے کہ بوکو حرام سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاہم اس واقعے نے سیکیورٹی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ نائجیریا میں بوکو حرام اور اس سے وابستہ شدت پسند گروہ کئی سالوں سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومتی دعووں کے باوجود ان کے حملوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








