اپنے باس کے رویے سے تنگ ہیں تو استعفے کے علاوہ آپ کیلئے اور کیا حل ہوسکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ملازم اپنے افسر سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا، یا کام کے حوالے سے اسے تنقید اور نظر انداز کیے جانے کا سامنا رہتا ہے۔ اس رویے سے عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے اور لوگ نئی ملازمت تلاش کرنے لگتے ہیں۔

العربیہ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بہتر تنخواہ کے بعد یہ دوسرا بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے ملازمین اپنی نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ جرمنی میں 2023 میں 1555 ملازمین پر کیے گئے ایک تحقیقی مطالعے سے پتا چلا کہ نوکری تبدیل کرنے والوں میں سے 29 فی صد نے اپنے افسر کے اندازِ قیادت کو وجہ بتایا۔

کیا استعفیٰ ہی حل ہے؟

سوال یہ ہے کہ اگر افسر کے ساتھ مسائل ہوں تو کیا فوری استعفا ہی حل ہے؟ ملازمت کے امور کے ماہر برنڈ سلاجیس کہتے ہیں کہ یہ صورت حال پر منحصر ہے۔ اگر افسر کی شخصیت مسلسل نقصان دہ ہو تو برداشت کرنا غیر صحت مند ہے، لیکن چھوٹی موٹی رنجش پر نوکری چھوڑ دینا بھی درست نہیں۔ بالآخر ہر ملازمت میں اختلافات ہو سکتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ کیا انھیں حل کیا جا سکتا ہے؟

سلاجیس کے مطابق خاص طور پر نوجوان ملازمین اور کیریئر کے آغاز پر لوگ مسائل حل کرنے یا مکالمہ کرنے کے بجائے جلد ہار مان لیتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ اصل بے اطمینانی کی وجہ کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ یہ افسر کے رویے کے بجائے خود کام کی نوعیت یا ذاتی توقعات ہوں۔ اسی حوالے سے ایک ماہر خاتون کہتی ہیں کہ بعض اوقات ملازم اپنے افسر کو محض ایک بہانہ بنا لیتا ہے، جبکہ اصل مسئلہ اندرونی نظریات یا زندگی کے بارے میں منفی رویہ ہوتا ہے، جسے نوکری یا افسر بدلنے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

اور کیا حل ہے؟

لیکن اگر یقین ہو کہ افسر یا ماحول کے ساتھ گزارہ ممکن نہیں تو پھر اگلا سوال یہ ہے کہ معاملہ ناقابلِ برداشت کیوں لگ رہا ہے؟ کیا یہ رابطے کا انداز ہے، کام کی ذمہ داریاں، ادارے کی ثقافت یا نوکری کی شرائط؟ ان سوالات پر براہِ راست بات کی جا سکتی ہے۔ بات چیت کے دوران الزام تراشی سے بچنا چاہیے اور واضح پیغام دینا چاہیے کہ بطور ملازم آپ کو کیا درکار ہے تاکہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

سلاجیس کہتے ہیں کہ ضروری ہے کہ مسائل کو کھلے لفظوں میں بیان کیا جائے اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی دی جائیں۔ مثلاً: “میں نے کچھ عرصے سے نئے خیالات پیش کرنے کی کوشش کی مگر ان پر توجہ نہیں دی گئی۔ میرے لیے یہ اہم ہے کہ میری رائے سنی جائے اور ان پر عمل درآمد کے طریقے نکالے جائیں۔ کیا آپ اس میں دل چسپی رکھتے ہیں، اور اگر ہاں تو کس طرح میرا ساتھ دیں گے؟”
اس طرح کے مکالمے سے مسائل سلجھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور استعفا آخری راستے کے طور پر باقی رہ جاتا ہے۔

Related Posts