ملک میں موسمیاتی و زرعی ایمرجنسی اور 20 لاکھ نوجوانوں کی ٹریننگ کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر اعظم پاکستان، فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں ملک بھر میں کلائمٹ اور ایگری کلچر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔

بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں رواں برس مون سون اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں کلائمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری دی گئی۔

کابینہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں، زرعی زمینوں اور فصلوں کے نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ارکان نے انفراسٹرکچر کی بحالی، کسانوں کی معاونت اور نقصانات کے ازالے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب نے بڑی تباہی مچائی ہے، ہزاروں ایکڑ زمین زیرآب آچکی ہے جبکہ ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

کابینہ اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سیلاب اب سندھ میں داخل ہو رہا ہے، زرعی نقصانات کی تفصیلات آئندہ ہفتے پیش کی جائیں گی اور یہ معاملہ کابینہ میں لایا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اکیلا موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت دی اور اعلان کیا کہ اس سلسلے میں ایپکس لیول اجلاس بلا کر جامع پالیسی مرتب کی جائے گی۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب کے تناظر میں آئندہ تین سال میں    20 لاکھ نوجوانوں کو ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی تربیت دی جائے گی۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے  وزیراعظم یوتھ پروگرام کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام  انگیجمنٹ امپلائمنٹ، انوائرنمنٹ اور ایجوکیشن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اسکالرشپس اور اپنے آئیڈیاز پیش کرنے کےلیے پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں، نوجوانوں کے لیے نیشنل انوویشن ایوارڈز کا آغاز کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی بڑاچیلنج ہے، نوجوانوں میں آگاہی پیداکرنے کے لے یونیورسٹیوں میں گرین یوتھ کلب قائم کیے گئے ہیں۔

رانا مشہود نے کہا کہ مختلف شعبوں میں معاونت کے لیے رضاکار فورس تشکیل دی گئی ہے، پہلے دو لاکھ نوجوانوں کو ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی تربیت دینے کا منصوبہ تھا تاہم اب اس میں اضافہ کر دیاگیا ہے اور آئندہ تین سال میں 20 لاکھ نوجوانوں کو ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی تربیت دی جائے گی۔

Related Posts