آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں 2.63 فیصد تک اضافے کا اعلان کرتے ہوئے جمعرات کو باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے نظام پر ایل این جی کی قیمت میں فی یونٹ 0.28 ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 12.01 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (Metric Million British Thermal Unit) مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نظام پر بھی قیمت میں 0.28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 11.01 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ (اگست) میں بھی قیمتوں میں 1.46 فیصد اضافہ ہوا تھا اور اس وقت سوئی سدرن کے نظام پر قیمت 10.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 2026 سے شروع ہونے والی قطری ایل این جی کی درجنوں کارگو شپمنٹس کو موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملک میں گیس کی طلب میں کمی، گیس کی فروخت پر بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور سستی شمسی توانائی کی طرف تیزی سے رجحان ہے۔
حکام کے مطابق قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت کم از کم 24 کارگو شپمنٹس کو موخر کرنے کا امکان ہے جبکہ اس سے قبل 2025 کی 5 شپمنٹس کو پہلے ہی ایک سال کیلئے آگے بڑھایا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت قطر کے ساتھ دو معاہدوں کے تحت ماہانہ تقریباً 9 ایل این جی کارگو درآمد کرتا ہے جوکہ سالانہ بنیاد پر 108 شپمنٹس بنتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








