دوحہ پر حملہ ریاستی دہشتگردی قرار؛ فلسطینی تنظیم کا مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ رائٹرز)

دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب حماس کے اعلیٰ رہنما قطر کے دارالحکومت میں موجود تھے جن میں مذاکراتی ٹیم بھی شامل تھی ۔

حماس کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی حملے سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ یہ صرف ہماری قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں تھی بلکہ پورے مذاکراتی عمل پر وار تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ حملے کے وقت حماس کا وفد امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر غور کے لیے دوحہ میں موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد مذاکراتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔

حملے میں حماس کے پانچ ارکان ہلاک ہوئے جن میں تنظیم کے جلاوطن رہنما خلیل الحیة کے بیٹے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک قطری سیکیورٹی اہلکار بھی جان کی بازی ہار گیا۔

ترجمان نے اسرائیلی حملے کو قطر جیسے مظلوموں کی حمایت کرنے والے ملک کی علامتی حیثیت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ حماس کے مطالبات جیسے کہ غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا اور علاقے کی دوبارہ تعمیر اپنی جگہ برقرار ہیں۔ انہوں نے غزہ میں جاری محاصرے بمباری اور نقل مکانی کو جنگی جرائم قرار دیا۔

دوسری جانب قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے دوحہ پر اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور اس حملے کے بعد علاقائی سطح پر جوابی اقدامات پر مشاورت جاری ہے۔

Related Posts