پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی اس وقت جرائم کے گہرے سایوں میں گھرا ہوا ہے۔ سیٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کی چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق جنوری سے اگست 2025 کے صرف آٹھ مہینوں میں شہر میں 45,000 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں موٹرسائیکل و گاڑیوں کی چوری و چھینا جھپٹی، موبائل فونز اسنیچنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور قتل جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
سب سے زیادہ وارداتیں موٹرسائیکل چوری (26,697) اور موبائل فون چھیننے (11,671) کی رہیں جبکہ 390 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سیٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق شہر میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چوری و چھینا جھپٹی کے ساتھ ساتھ قتل، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم بھی تواتر سے پیش آئے۔
جنوری 2025

ماہ جنوری کے دوران 31 کاریں چھینی گئیں جبکہ 151 کاریں چوری ہوئیں۔ موٹرسائیکل جرائم میں بھی خطرناک اضافہ دیکھا گیا جہاں 617 موٹرسائیکلیں چھینی گئیں اور 3,413 چوری ہوئیں۔
اس ماہ 1,585 موبائل فونز چھیننے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ 3 افراد کو اغواء برائے تاوان کے لیے نشانہ بنایا گیا جبکہ 11 بھتہ خوری کے کیسز سامنے آئے۔ اس ماہ 54 افراد قتل کیے گئے۔
فروری 2025

فروری میں 36 گاڑیاں چھینی گئیں اور 159 چوری ہوئیں۔ 549 موٹرسائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 3,224 چوری ہوئیں۔
1,402 موبائل فونز چھیننے کے کیس رپورٹ ہوئے۔ اغواء برائے تاوان کا ایک کیس اور 4 بھتہ خوری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ قتل کی وارداتوں کی تعداد 36 رہی۔
مارچ 2025

مارچ میں جرائم کی رفتار برقرار رہی۔ 21 گاڑیاں چھینی اور 139 چوری ہوئیں، جبکہ 574 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,605 چوری ہوئیں۔
1,312 موبائل فونز چھینے گئے، جبکہ 1 اغواء برائے تاوان اور 9 بھتہ خوری کی وارداتیں ہوئیں۔ 42 افراد کو قتل کیا گیا۔
اپریل 2025

اپریل میں 19 کاریں چھینی گئیں اور 131 چوری ہوئیں، جبکہ 569 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,176 چوری ہوئیں۔
1,364 موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ 3 اغواء برائے تاوان اور 5 بھتہ خوری کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ قتل کی تعداد 53 رہی۔
مئی 2025

مئی میں جرائم میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔ 31 گاڑیاں چھینی اور 166 چوری ہوئیں، جبکہ 702 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,292 چوری ہوئیں۔
1,489 موبائل فونز چھینے گئے۔ اس ماہ کوئی اغواء کا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ 3 بھتہ خوری اور 66 قتل کی وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔
جون 2025

جون میں 23 گاڑیاں چھینی اور 115 چوری ہوئیں، 585 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,298 چوری ہوئیں۔
1,436 موبائل فونز چھینے گئے۔ 2 افراد کو اغواء کیا گیا، 7 بھتہ خوری کے کیسز اور 33 قتل رپورٹ ہوئے۔
جولائی 2025

جولائی کے دوران 22 گاڑیاں چھینی اور 197 چوری ہوئیں، جبکہ 502 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,357 چوری ہوئیں۔
1,603 موبائل فونز چھینے گئے، 1 اغواء برائے تاوان، 5 بھتہ خوری اور 52 قتل کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
اگست 2025

اگست میں 31 گاڑیاں چھینی گئیں اور 204 چوری ہوئیں۔ 507 موٹرسائیکلیں چھینی اور 3,332 چوری ہوئیں۔
1,480 موبائل فونز چھینے گئے۔ اغواء برائے تاوان کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، 1 بھتہ خوری اور 54 افراد قتل کیے گئے۔
سی پی ایل سی کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کراچی میں سب سے زیادہ متاثرہ شعبہ موٹرسائیکل چوری ہے جس کی تعداد 26 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اس کے بعد موبائل فون چھینا جھپٹی کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
قتل اور بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم بھی مسلسل جاری ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس صورتحال پر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








