پاکستانی نمک نے بھارتی منڈیوں پر قبضہ جما لیا؛ دہلی میں ریکارڈ فروخت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ انڈین میڈیا)

دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہوں میں پاکستان سے درآمد کیے جانے والے مختلف اقسام جیسے کالا نمک، سیندھا نمک اور سمندری نمک بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں جنہیں لوگ صحت بخش فوائد کی وجہ سے بے حد پسند کر رہے ہیں۔

دہلی میں پاکستانی نمک کے بیوپاریوں کے مطابق تمام نمک پاکستان کے پہاڑی علاقوں اور سمندر سے حاصل کیے جاتے ہیں اور خاص طور پر ہمالیائی گلابی نمک جوکہ دراصل سیندھا نمک ہوتا ہے پاکستان کے ہمالیہ کے دامن میں واقع کانوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس میں 84 سے زائد قدرتی معدنیات پائے جاتے ہیں جیسے کیلشیم، پوٹاشیم اور آئرن، جو انسانی صحت کے لیے بہت مفید سمجھے جاتے ہیں۔

نمک کے بیوپاری امت کا کہنا ہے کہ دہلی میں لوگ کالے اور سیندھا نمک کے مقابلے میں سمندری نمک کو زیادہ پسند کر رہے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف زیادہ قدرتی ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ یہ نمک سمندری پانی کے بخارات سے حاصل کیا جاتا ہے اور اپنی موٹے دانے دار ساخت کی وجہ سے کھانا پکانے اور بیکنگ میں استعمال ہوتا ہے۔

قیمت کے حوالے سے امت نے بتایا کہ سیندھا نمک 100 روپے، کالا نمک 120 روپے اور سمندری نمک 102 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اس کی مقبولیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں لوگ بڑی مقدار میں اسے خرید رہے ہیں۔

سمندری نمک کے فوائد پر بات کرتے ہوئے امت نے بتایا کہ اس میں میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ہاضمہ بہتر کرتے ہیں بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں جلد کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، پٹھوں کی تھکن کم کرتے ہیں اور ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔ نہانے کے پانی میں اسے شامل کرنے سے جلد کی خارش اور جلن میں بھی کمی آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کالا نمک بھی پیٹ کے امراض کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور اسے خاص طور پر ہاضمے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستانی نمک اپنی قدرتی ساخت اور طبی فوائد کی وجہ سے دہلی کی عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

Related Posts