اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین حافظ الرحمن کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری برطرفی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جج جسٹس بابر ستار نے 99 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین اور ممبر ایڈمنسٹریشن کے عہدے پر حافظ الرحمن کی تقرری آئین اور میرٹ کے خلاف کی گئی۔
یہ مقدمہ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی کی درخواست پر شروع ہوا جس میں انہوں نے پی ٹی اے میں اچانک ایک نیا عہدہ تخلیق کرنے اور پھر اسی دن حافظ الرحمن کو اس پر تعینات کرنے کے عمل کو چیلنج کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت نے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کر کے ایک پہلے سے طے شدہ امیدوار کو فائدہ پہنچایا۔
اشتہار اس وقت دیا گیا جب قانونی ترامیم ابھی کی ہی نہیں گئی تھیں جبکہ عمر کی بالائی حد کو 57 سے بڑھا کر 61 سال کیا گیا تاکہ امیدوار کی پروفائل سے ہم آہنگ ہو سکے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ حافظ الرحمن کو ایک ہی دن میں بیک وقت دو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا گیا، جو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے خلاف تھا۔
مزید برآں ایک نیا عہدہ شامل کرنے سے ٹیلی کام ایکٹ کی اس شق کی بھی خلاف ورزی ہوئی جس کے مطابق پی ٹی اے میں اراکین کی تعداد طاق ہونی چاہیے۔
عدالت نے حکم دیا کہ حافظ الرحمن کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور پی ٹی اے کا سینئر ترین رکن قائم مقام چیئرمین کے طور پر ذمہ داری سنبھالے جب تک کہ ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی قانونی طریقۂ کار کے تحت مستقل تقرری نہ ہو جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








