قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ان شہریوں کے لیے جدید سہولت متعارف کرادی ہے جن کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم یا ناقابل شناخت ہو جاتے ہیں، خصوصاً بزرگ افراد کو اس مسئلے کا سامنا رہتا ہے۔
نادرا نے شناختی توثیق کے نظام میں باضابطہ طور پر چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) ٹیکنالوجی شامل کردی ہے۔
یہ نیا فیچر اب نادرا کے مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ دونوں پر دستیاب ہوگا اور فنگر پرنٹس و آئرس ریکگنیشن کے ساتھ بطور اضافی سہولت کام کرے گا۔
اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کے لیے شناختی خدمات تک رسائی کو آسان اور جامع بنانا ہے جنہیں روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں دشواری پیش آتی ہے۔
یہ سہولت نیشنل رجسٹریشن اور بائیومیٹرک پالیسی فریم ورک کا حصہ ہے، جو پاکستان کے شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکمت عملی کے تحت شروع کیا گیا ہے۔
نادرا کے ترجمان شباہت علی کے مطابق یہ اقدام بالخصوص بزرگ شہریوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ بائیومیٹرک ڈیٹا میں کمی آنے سے ان کی شناخت کی تصدیق مشکل ہوجاتی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر نوزائیدہ بچوں کی بروقت رجسٹریشن کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تاخیر کرنا بچے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
نادرا کی جانب سے 18 سال سے کم عمر شہریوں کو جیووینائل کارڈ جاری کیا جاتا ہے جو بلوغت تک کارآمد رہتا ہے۔ اس کارڈ کے لیے والدین میں سے کسی ایک کے شناختی کارڈ کی موجودگی لازمی ہے۔
اس وقت صرف کراچی میں نادرا کے 359 کاؤنٹر فعال ہیں جبکہ مستقبل میں اس سہولت کو مزید توسیع دی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








