اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے اپنے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کا جدید ورژن جاری کر دیا ہے جس میں متعدد نئی اور جدید خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔
اس اقدام کا مقصد پاکستانی شہریوں کے لیے شناختی خدمات کو مزید مؤثر، آسان اور قابل رسائی بنانا ہے تاکہ قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول کے عمل کو تیز اور بہتر بنایا جا سکے۔
نئے ورژن میں نمایاں فیچرز میں چہرے کی بائیو میٹرک تصدیق شامل ہے جو روایتی فنگر پرنٹ بائیو میٹرک کی جگہ لے گی اور صارف کے چہرے کی خصوصیات کو اپ ڈیٹ کرے گی۔
اس کے علاوہ بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر خاندان کے افراد کی تفصیلات دیکھنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ایپ میں آن لائن اپائنٹمنٹ بکنگ کا فیچر شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین نادرا مراکز میں پیشگی وقت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ درخواست کی پیش رفت جانچنے کے لیے ٹریکنگ آئی ڈی چیک کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایپ کا انٹرفیس مزید ہموار اور تیز نیویگیشن کے قابل بنایا گیا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق نیا ورژن (3.8.1) اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ شہریوں کو زیادہ تر خدمات کے لیے رجسٹریشن مراکز کے دورے کی ضرورت نہ پڑے۔ اب صارفین اپنے اسمارٹ فون سے ہی شناختی کارڈ کی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں اور شناختی دستاویزات کے ڈیجیٹل ورژن بھی دیکھ سکتے ہیں۔
یہ اپ ڈیٹ نادرا کی ڈیجیٹل تبدیلی اور شہری سہولت کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایپ کا تازہ ترین ورژن ڈاؤن لوڈ کریں یا موجودہ ایپ کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ نئی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس سے قبل نادرا نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کسی غیر مجاز ویب سائٹ یا موبائل ایپلی کیشن کے ساتھ شیئر نہ کریں کیونکہ اس سے شناختی چوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق کچھ دھوکے باز جعلی پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو لالچ دے کر ان کا شناختی ڈیٹا حاصل کرتے ہیں اور بعد میں اس کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








