پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا منصوبہ تاخیر کا شکار

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan Satellite Internet Launch Delayed
ONLINE

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی خدمات شروع کرنے کے لیے پانچ بڑی بین الاقوامی کمپنیوں اسٹار لنک، ایمیزون کے پروجیکٹ کائپر، ون ویب، اسپیس سیل اور ٹیلی سیٹ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی ہے تاہم حکومتی اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی خدمات کے آغاز میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

یہ کمپنیاں ملک کے مختلف علاقوں، خاص طور پر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں تیز رفتار براڈبینڈ فراہم کرنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف وفاقی ادارے سرمایہ کاری اور آپریشن کے منصوبوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں جبکہ وزارت اطلاعات اور ٹیلی کمیونی کیشن کے پاس اس بندش کو حل کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کی رجسٹریشن اور پالیسی کی وضاحت میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

یوٹیوب کا نیا ویب پلیئر پاکستان میں بھی لانچ، جانئے اس کی خصوصیات

پاکستان اسپیس ایکٹیوٹیز ریگولیٹری بورڈ کے سست روی کے سبب پانچوں کمپنیوں کے رجسٹریشن کے عمل میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی خدمات کے لیے درکار قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

اس تاخیر کی وجہ سے وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے میں اہم ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر کے اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریگولیٹری فریم ورک جلد مکمل نہ کیا گیا تو تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی خدمات کا آغاز حکومت کے طے کردہ شیڈول سے بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ یہ خدمات نومبر یا دسمبر 2025 تک شروع ہو جائیں گی، لیکن قانونی فریم ورک کی کمی اب اس شیڈول کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

Related Posts