امریکا کی جنوبی ریاست لوئیزیانا میں ایک جج نے معروف فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کے حامی رہنما محمود خلیل کو الجزائر یا شام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کے مطابق محمود خلیل نے گرین کارڈ کی درخواست میں معلومات مکمل طور پر ظاہر نہیں کیں۔ جج جامی کومانز نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ کو امریکہ سے الجزائر یا متبادل طور پر شام بھیجا جائے۔
🚨 BREAKING: An immigration judge has just ordered Mahmoud Khalil, who led the Palestine riots at Columbia University, be deported to SYRIA or ALGERIA
Good riddance, loser!
This comes after it was found out Khalil LIED on his green card application. pic.twitter.com/gxBmGANipC
— Nick Sortor (@nicksortor) September 18, 2025
عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ محمود خلیل کی جانب سے معلومات نہ بتانا کسی لاعلم یا کم تعلیم یافتہ درخواست گزار کی غلطی نہیں بلکہ عدالت کے مطابق مدعا علیہ نے جان بوجھ کر اہم حقائق کو غلط طور پر پیش کیا۔
محمود خلیل نے امریکی سول لبرٹیز یونین کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میرے اظہار رائے کے حق پر ردعمل ظاہر کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تازہ ترین کوشش، ایک غیر جمہوری امیگریشن کورٹ کے ذریعے، ان کے اصلی رنگ دوبارہ عیاں کر دیتی ہے۔
محمود خلیل قانونی طور پر مستقل رہائشی ہیں، ان کی شادی امریکی شہری سے ہوئی ہے اور ان کا بیٹا امریکا میں پیدا ہوا ہے۔ مارچ میں انہیں تین ماہ کے لیے امیگریشن کے حوالے سے حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے کا سامنا تھا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور ملک بھر میں فلسطینی حمایتی کیمپس مظاہروں کے نمایاں رہنما کے طور پر پہچانے جانے والے محمود خلیل جون میں رہا ہوئے تھے تاہم وفاقی حکام کی جانب سے انہیں ملک بدر کیے جانے کے خطرات برقرار رہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








