معروف ایم بی بی ایس ڈاکٹر تمکنت منصور نے ایچ پی وی ویکسین کے حوالے سے ایک معلوماتی ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے 9 سے 14 سال کی بچیوں کو یہ ویکسین ضرور لگوانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر تمکنت کے مطابق ایچ پی وی ویکسین رحم کے کینسر سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے اور اس بارے میں آگاہی عام کرنا ناگزیر ہے۔
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) September 17, 2025
پاکستانی محققین کی ایک جامع ریسرچ کے مطابق 2007 سے 2018 تک کے اعداد و شمار سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک میں ایچ پی وی انفیکشن کی شرح 23 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
سروائیکل کینسر کی ویکسینیشن: کیا یہ واقعی خطرناک اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش ہے؟
یہ اعداد و شمار نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ اس بات کا تقاضا بھی کرتے ہیں کہ ویکسین کو عام کیا جائے تاکہ خواتین کی صحت کو بہتر اور محفوظ بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر تمکنت نے HPV vaccine کے بارے میں بہت معلوماتی ویڈیو بنائی ہے۔ وہ خود ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور ان کی ریسرچ بھی کینسر پر ہے۔ ویڈیو ضرور دیکھیں اور اس کو آگے پھیلائیں اور 9 سے 14 سال کی بچیوں کو HPV vaccine ضرور لگوائیں۔ pic.twitter.com/jZh5uFOQCJ
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) September 16, 2025
سعودی عرب کی مثال بھی قابل ذکر ہے جہاں ایچ پی وی ویکسین 2010 سے استعمال کی جا رہی ہے۔
2021 میں اسے قومی ویکسین پروگرام میں شامل کیا گیا اور صرف ایک سال یعنی 2022 میں ہی تقریباً ایک لاکھ اکتیس ہزار بچیوں کو یہ ویکسین لگائی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس ویکسین کو ترجیحی بنیادوں پر اپنا رہے ہیں۔
پاکستانی ریسرچرز نے 2007 سے 2018 تک کا HPV کا پاکستان کا ڈیٹا نکالا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان میں HPV انفیکشن کی شرح 23 فیصد ہے۔ pic.twitter.com/2wm8l1QEJt
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) September 17, 2025
ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود اپنی مقامی ایچ پی وی ویکسین تیار کر لی ہے، جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ یہ ویکسین خواتین کی صحت کے لیے کتنی ناگزیر اور اہم ہے۔
کیا واقعی ایچ وی آئی ویکسین سے بچیوں کی حالت اتنی خراب ہوئی؟ حقیقت جان لیں
ڈاکٹر تمکنت منصور نے زور دیا ہے کہ پاکستان میں بھی اس ویکسین کو عام کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں خواتین کو گردنِ رحم کے کینسر جیسی مہلک بیماری سے بچایا جا سکے۔
سعودی عرب میں HPV ویکسین 2010 سے لگ رہی ہے۔ 2021 میں اس کو قومی ویکسین پروگرام میں شامل کرلیا گیا اور 2022 میں سعودی عرب نے صرف ایک سال میں 131000 بچیوں کو ویکسین لگائی ہے۔ pic.twitter.com/EDCo9TFzLt
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) September 17, 2025
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








