وفاقی حکومت کو ابتدائی اندازوں کے مطابق خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ مون سون سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی مجموعی مالیت 63 ارب 79 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بنیادی ڈھانچے، کھیتی باڑی، مویشیوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق صرف تعمیر نو کی ضروریات 44 ارب 47 کروڑ روپے تک پہنچتی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں اور مزید تخمینوں کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔
سیلاب نے پنجاب کی زرعی پٹی کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے جہاں چاول اور گنے کی فصلیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق فصلوں، مویشیوں اور گھروں کی تباہی کا نقصان 17 ارب 89 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ مزید 45 ارب 90 کروڑ روپے کے نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔
کراچی میں آج ہلکی بوندا باندی کا امکان، درجہ حرارت کتنا رہے گا؟
پنجاب کے زرعی علاقے سب سے زیادہ متاثر قرار دیے گئے ہیں، جہاں 22 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین زیرِ آب آ گئی ہے اور ایک ملین ایکڑ سے زیادہ چاول کی کھڑی فصل تباہ ہو گئی ہے۔
گنے کی تقریباً 25 لاکھ ایکڑ پر کاشت شدہ زمین کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ مکئی اور کپاس کی فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔ متاثرہ اضلاع میں حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات اور ملتان شامل ہیں جہاں کسانوں کے لیے ٹیکس اور نہری فیس معاف کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
دوسری جانب سندھ میں نقصانات نسبتاً کم رہے ہیں۔ صوبے میں صرف 3 فیصد پیاز کی فصل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ زیادہ تر سیلابی پانی دریاؤں کے اندر ہی رہا ہے۔ کچے کے علاقے متاثر ہوئے تاہم سندھ کی بڑی زرعی زمین زیادہ تر محفوظ رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








