اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار پر مبنی ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بینکاری نظام میں مقامی صارفین اور انفرادی افراد کا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ اب ذاتی ڈپازٹس ملک کی مجموعی بینک ڈپازٹس کا تقریباً نصف ہیں۔

اگست 2025 تک مجموعی ڈپازٹس 33اعشاریہ 8 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جن میں سے 49اعشاریہ 4 فیصد یعنی 16 کھرب روپے سے زائد افراد کے پاس ہیں۔ ان افراد میں تنخواہ دار طبقہ، خود مختار پیشہ ور، گھریلو خواتین، طلبہ اور دیگر شامل ہیں۔
اس کے مقابلے میں پرائیویٹ سیکٹر (کاروباری ادارے) کا حصہ 20اعشاریہ 3 فیصد رہا جو کہ 6اعشاریہ 8 کھرب روپے بنتا ہے۔
آج ہی اپلائی کریں ورنہ دیر ہوجائے گی؛ پنجاب میں ای ٹیکسی اسکیم کا باقاعدہ آغاز
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ڈپازٹس 15اعشاریہ 2 فیصد رہے، غیر ملکی مقیم پاکستانیوں کے ڈپازٹس کا حصہ 3 فیصد رہا جبکہ بقیہ 12 فیصد کودیگر کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








