ٹوکیو میں جاری ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025 میں پاکستان کے اولمپک چیمپئن اور جیولن تھرو کے ہیرو ارشد ندیم سونے کا تمغہ جیتنے کی کوشش میں میدان میں اترے تاہم وہ فائنل مرحلے میں ٹاپ آٹھ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
جیولن تھرو کے اس سنسنی خیز مقابلے میں دنیا کے 12 نامور تھروورز شامل تھے جن میں بھارت کے نیرج چوپڑا اور جرمنی کے عالمی نمبر ایک جولیان ویبر بھی شریک تھے۔
بدلے کا وقت آگیا! ایشیا کپ میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کا دوبارہ ٹاکرا
قوانین کے مطابق ہر کھلاڑی کو چھ تھروز کا موقع دیا جاتا ہے، تاہم ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد صرف آٹھ بہترین کھلاڑی مزید کوشش کے اہل ہوتے ہیں۔
پہلے راؤنڈ میں ارشد ندیم نے 82اعشاریہ 73 میٹر کا تھرو کیا، جو ان کے کوالیفائنگ راؤنڈ کی بہترین کارکردگی 85اعشاریہ 28 میٹر سے کم رہا۔
ان کے فوراً بعد نیرج چوپڑا نے 83اعشاریہ 65 میٹر کا تھرو کر کے برتری حاصل کر لی۔ اسی دوران جولیان ویبر نے 83اعشاریہ 63 میٹر اور گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے 84اعشاریہ 59 میٹر کی تھرو کی۔ بھارت کے سچن یادو نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 86اعشاریہ 29 میٹر کا تھرو کر کے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
دوسری باری میں ارشد ندیم کی کوشش فاؤل قرار دی گئی جس سے ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ تیسرے اور فیصلہ کن راؤنڈ میں انہوں نے 82اعشاریہ 75 میٹر کا تھرو کیا، تاہم یہ کارکردگی انہیں ٹاپ آٹھ میں جگہ نہ دلا سکی، یوں وہ مقابلے سے باہر ہوگئے۔
ارشد ندیم کی ابتدائی پرفارمنس کے بعد شائقین نے بڑی امیدیں وابستہ کی تھیں، مگر اس بار قسمت اور کارکردگی ان کا ساتھ نہ دے سکی۔ مقابلے میں اب باقی کھلاڑیوں کے درمیان سخت جدوجہد جاری ہے اور سونے کے تمغے کا فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








