لاہور: پاکستان میں طب کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں اب کینسر جیسے موذی مرض کا علاج بغیر کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کے صرف ساٹھ منٹ میں ممکن ہو گیا ہے، پنجاب میں جدید کوآبلیشن کینسر ٹریٹمنٹ سینٹر کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ یہ سہولت پنجاب کو صحت کے میدان میں خطے کا قائد بنائے گی کیونکہ اب کینسر کے مریضوں کو کیمو تھراپی کے تکلیف دہ مراحل سے گزرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک گھنٹے میں علاج فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت مستحق مریضوں کے لیے بالکل مفت ہوگی۔
مریم نواز نے مزید بتایا کہ کوآبلیشن مشین چین سے درآمد کی گئی ہے، جو اس خطے میں چین کے علاوہ کسی اور ملک کے پاس موجود نہیں۔
پنجاب میں پراسرار بیماری کا حملہ؛ لاہور میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ
انہوں نے کہا کہ اس مشین کی قیمت 25 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے پروب کی قیمت 5500 ڈالر ہے۔ اس منصوبے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں تاکہ غریب مریض بھی اس جدید علاج سے مستفید ہو سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے چین کے دورے کے دوران اس ٹیکنالوجی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور فوری طور پر پاکستان لانے کی ہدایت دی۔
ڈاکٹر شہزاد کو خصوصی طور پر چین بھیجا گیا تاکہ وہ اس مشین کے استعمال کی تربیت حاصل کر سکیں۔ اس وقت میو اسپتال میں ایک مشین مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے جس سے کینسر کے پانچ مریضوں کا کامیاب علاج کیا جا چکا ہے اور وہ اب صحت مند ہیں۔
مزید برآں، مریم نواز نے اعلان کیا کہ جنوبی پنجاب اور راولپنڈی کے لیے مزید مشینیں منگوائی جا رہی ہیں جبکہ نواز شریف کینسر اسپتال جو زیر تعمیر ہے، اس کے لیے تین مشینوں کا آرڈر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کڈنی ٹیومر کے علاج کے لیے بھی اسی مشین کے ذریعے تجربات شروع کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، یہ پیش رفت کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے اور عوام کو بہترین صحت سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








