کہیں آپ بھی اس سے پریشان تو نہیں؟ ایف بی آر کے نظام میں بڑی غلطیوں کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

FBR to challenge Islamic council ruling on withholding tax
FILE PHOTO

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے آن لائن فائلنگ سسٹم آئی رس میں بڑے پیمانے پر خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسائل کے باعث ٹیکس ایئر 2025 کے ریٹرنز فائل کرنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

ایسوسی ایشن نے چیئرمین ایف بی آر کو ایک خط لکھ کر ان سنگین مسائل کی نشاندہی کی اور کہا کہ ایف بی آر کی خاموشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یا تو ادارہ ان خدشات کو نظر انداز کر رہا ہے یا پھر قانونی تشریح میں فرق موجود ہے جس کے باعث یہ مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

ایسوسی ایشن نے بتایا کہ آئی رس سسٹم چند بنیادی قانونی نکات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان میں سب سے اہم عطیات پر دیے گئے ٹیکس کریڈٹ کا معاملہ ہے۔

ٹیکس قوانین کے مطابق عطیات پر ٹیکس کریڈٹ کا اطلاق تمام واجبات بشمول سرچارج پر ہونا چاہیے، لیکن آئی رس سسٹم سرچارج کو اس مد میں شامل نہیں کر رہا۔

اس پر کراچی ٹیکس بار نے موقف اپنایا کہ سرچارج قانون کی رو سے ٹیکس ہی تصور ہوتا ہے اور اس کو الگ رکھنے سے ٹیکس دہندگان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی موجیں؛ سندھ حکومت نے پنشن کا پرانا سسٹم بحال کردیا

مزید یہ کہ سرچارج ایڈوانس ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ نہیں کیا جا رہا اور الگ ادائیگی کے لیے پرچی جاری کی جا رہی ہے، جس سے دہرا ٹیکس لگنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس مسئلے کو درست کیا جائے یا پھر واضح اعلامیہ جاری کیا جائے تاکہ قانونی ابہام ختم ہو۔

کراچی ٹیکس بار نے اضافی ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر بھی شدید تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ سیکشن 100 بی اے کے تحت جمع ہونے والا ٹیکس کم از کم ٹیکس نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ٹیکس کا اطلاق ہر مالی سال کے مطابق ہونا چاہیے اور سابقہ سال کی تعمیل موجودہ سال کی ذمہ داری پر اثر انداز نہیں ہونی چاہیے۔

اضافی ودہولڈنگ کو کم از کم ٹیکس سمجھنا نظام پر اعتماد کو متزلزل کرتا ہے اور رضاکارانہ تعمیل کو کمزور کرتا ہے۔

اسی طرح بجلی کے بلوں پر کٹوتی ہونے والے ٹیکس کے بارے میں بھی سسٹم میں بڑی غلطی سامنے آئی ہے۔ ٹیکس قوانین کے تحت 3 لاکھ 60 ہزار روپے سالانہ سے کم بجلی بل والے صارفین کے لیے یہ ٹیکس کم از کم ٹیکس تصور کیا جائے گا۔

زیادہ بلوں والے صارفین کے لیے یہ ایڈجسٹ ایبل ٹیکس ہے۔ اس کے برعکس آئی رس سسٹم تمام بلوں پر کٹنے والے ٹیکس کو کم از کم ٹیکس شمار کر رہا ہے جو صارفین کو ان کے قانونی حق سے محروم کرتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر ایف بی آر نے فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے تو یہ مسائل نہ صرف ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ ادارے پر اعتماد کو بھی شدید طور پر متاثر کریں گے۔

Related Posts