سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نامعلوم شخص دو معصوم بچوں کو بے دردی سے اٹھا کر زمین پر پٹختا دکھائی دیتا ہے اور ساتھ بیٹھے دیگر افراد تماشہ بن کر ویڈیو بنا رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر صارفین میں شدید غم و غصہ کا طوفان برپاہو گیا ہے۔
اس بدبخت کو تو بعد میں پکڑیں، پہلے اِن تماش بینوں اور ویڈیو بنانے والے کو اندر ڈالیں، جانور کو پکڑنے کے بجائے بُت بنے بیٹھے رہے۔۔!!pic.twitter.com/W75VX41tku
— Khurram Iqbal (@khurram143) September 18, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے واقعے کی فوری طور پر تحقیقات اور ملوث افراد کو گرفتاری کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔
ویڈیو کے کی جانے والی پوسٹس پر ردعمل میں یہ کہا گیا کہ تشدد کرنے والے کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی قابل مذمت ہیں جو بچوں کو بچانے کے بجائے ریکارڈنگ کر رہے تھے اور بہت سے صارفین نے نشاندہی کی کہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے معاشرتی شعور اور فوری عوامی مداخلت ناگزیر ہے۔
صحیح کہہ رہیں آپ اس ظالم بدبخت کا کچھ نام پتہ تو ظاہر کریں دماغ سن ہوگیا وڈیو کو دیکھ کر بچوں کے معاملے میں یورپ میں رہ کر دل بہت حساس ہوگیا ہے
— farooq syed (@farooqsyed3) September 18, 2025
کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو بنانے والوں، تماش بینوں اور تشدد کرنے والے تینوں کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی معصوم بچوں کے ساتھ ایسا جرم کرنے کی ہمت نہ کرے جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے بچے بچانے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور متاثرہ بچوں کو طبی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس بدبخت سے بھی بڑے گھٹیا اور لعنتی وہ ہیں جو آرام سے بیٹھیے تماشا دیکھ رہیں بچے انکی طرف آئے بھی ہیں لیکن ان جانوروں کو کوئی اثر نہیں ہوا
— Rana Waqar Ahmed (@WaqarAh52748462) September 18, 2025
سوشل میڈیا پر یہ بھی زور دیا جا رہا ہے کہ صرف نفرت انگیز تقاریر یا آنسو بہانا کافی نہیں، بلکہ شہریوں کو چاہیے کہ منظر دیکھتے ہی متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں اور بچوں کی حفاظت کے لیے فوراََ مداخلت کریں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں بڑھتے ہوئے غفلت اور بزدلی کے رجحان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عوامی سطح پر بچوں کی حفاظت کے قوانین و نفاذ کو موثر بنانے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








