سوشل میڈیا پر سعودی نوجوان عبدالرحمن السدحان کے حوالے سے ایک بار پھر پوسٹ سامنے آرہی ہیں،عبدالرحمن السدحان کو سعودی حکام نے 2018 میں حراست میں لیا تھا۔
یہ سعودی لڑکا ایک بےنامی اکاؤنٹ چلاتا تھا جس میں وہ سعودی بادشاہت پر طنزیہ اور تنقیدی پوسٹیں کرتا تھا۔عبدالرحمن السدحان کی بہن کے مطابق لڑکے کے اکاؤنٹ کا سعودی رجیم نے ٹویٹر کی مدد سے ہی پتہ لگایا تھا۔
سعودی حکام نے اکاؤنٹ کی شناخت کے لیے ٹوئٹر کی مدد لی تھی، جیسکہ 2022 میں ایک امریکی عدالت نے سابق ٹوئٹر مینیجر احمد ابوعممو کو سعودی حکومت کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی۔ اس کیس میں بتایا گیا کہ ابوعممو نے سعودی خاندان کے خلاف تنقید کرنے والے اکاؤنٹس کی معلومات فراہم کیں، https://t.co/A8H6TbthCx
— Saim Baloch (@saimsab12) September 18, 2025
عبدالرحمن السدحان کو 2018 میں ایک گمنام ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے پر گرفتار کیا گیا۔ ان کی بہن اریج کے مطابق سعودی حکام نے ٹویٹر کی مدد سے اکاؤنٹ ٹریس کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور انگلیاں اور ہاتھ توڑدیا تھا، عبدالرحمن السدحان اب بھی قید ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سماجی کارکن اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ریاض کے ملازم عبدالرحمن السدحان مارچ 2018 کو سعودی عرب کی ریاستی سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔
ان پر الزام تھا کہ وہ ٹوئٹر پر دو خفیہ اکاؤنٹس چلاتے ہیں جن کے ذریعے وہ سرکاری حکام، مذہبی اداروں اور ان کے سیاست سے تعلقات کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور معاشی مسائل پر طنزیہ اور تنقیدی خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اکاؤنٹ ایک قدامت پسند مذہبی عالم کا فرضی کردار تھا جو سعودی مزاحیہ ڈرامے سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔
المناک واقعہ یا ڈرامہ؟ ہوٹل میں روٹی چوری کی ویڈیو پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ
گرفتاری کے بعد عبدالرحمن السدحان کو دو سال تک اہل خانہ سے مکمل طور پر رابطے سے محروم رکھا گیا۔ پہلی بار انہیں صرف ایک منٹ کی فون کال کرنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد ایک سال تک پھر مکمل تنہائی میں رکھا گیا۔
اپریل 2021 میں خصوصی فوجداری عدالت نے بند کمرے میں سماعت کرتے ہوئے انہیں 20 سال قید اور 20 سالہ سفری پابندی کی سزا سنائی۔
امریکی عدالت کا فلسطینیوں کے حمایتی محمود خلیل کو امریکا سے نکالنے کا حکم
اکتوبر 2021 میں اپیل کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔ ستمبر 2022 میں اقوام متحدہ نے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاہم رپورٹس کے مطابق عبدالرحمن السدحان کو سخت تشدد اور طویل تنہائی میں رکھنے جیسے اذیت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








