دفاعی معاہدہ: پاک سعودی نئے عہد کا آغاز

تازہ ترین

تازہ ترین

Defense Agreement: A New Era of Pakistan-Saudi Relations
ONLINE

قطر پر اسرائیلی حملے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور دفاعی صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ بظاہر یہ حملہ ایک چھوٹے خلیجی ملک پر تھا مگر حقیقت میں یہ پورے خطے کے قلب پر کاری ضرب ثابت ہوا۔

قطر، جو ہمیشہ غیر جانب دار سفارت کاری اور ثالثی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، یوں نشانہ بننا محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک کھلا اعلان تھا کہ خلیج کی محفوظ سمجھی جانے والی چھت اب غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ اس اچانک جھٹکے نے عرب دنیا کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پرانی دفاعی حکمت عملیوں اور امریکہ پر بھروسے کو ازسرنو پرکھے۔

عسکری نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو مسلم دنیا کے چار دائرے یا تہیں ہیں۔ سب سے اوپر فلسطین ہے، جو 1948ء سے اسرائیل کے شکنجے میں ہے۔ اس کے بعد مصر، شام، عراق اور لبنان ہیں جنہیں متعدد بار اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔

تیسری تہہ یا دائرہ وہ ہے جہاں عرب دنیا کی بڑی مگر غیر خلیجی ریاستیں موجود ہیں جبکہ سب سے اندرونی تہہ خلیج ہے۔ یعنی متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان اور سعودی عرب۔

یہی وہ خطہ ہے جسے اب تک براہِ راست اسرائیلی حملوں سے مامون سمجھا جاتا رہا۔ قطر پر حملے نے یہ تاثر توڑ دیا اور پیغام دیا کہ اگر سعودی عرب نے بھی محتاط روش نہ اپنائی تو وہ اگلا ہدف بن سکتا ہے۔

کیا دوحہ عرب اسلامک سمٹ اسرائیلی جارحیت روک پائے گی؟

یہ بات عرب حکمرانوں سے پوشیدہ نہیں کہ امریکہ کی دفاعی ضمانتیں محض کاغذی پرزوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ امریکہ نے نیٹو ممالک، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدے کر رکھے ہیں جن کے تحت ان پر کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی افواج ان کے دفاع کی پابند ہیں لیکن عرب دنیا کو کبھی اس نوعیت کی یقین دہانی نہیں دی گئی۔

ہتھیار اور تربیت ضرور فراہم کی گئی، فوجی اڈے ضرور قائم کیے گئے، مگر حقیقی دفاعی چھتری کبھی فراہم نہ کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب نے ایک نئی راہ چنی اور پاکستان کے ساتھ ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا۔

یہ معاہدہ کئی لحاظ سے انکشافات کا درجہ رکھتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم عملاً دم توڑ گئی۔ امریکہ کی خطے میں موجودگی اب محض ایک بے اعتبار مہمان کی ہے اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان کو پہلی بار عرب دنیا نے اپنے حقیقی محافظ کے طور پر تسلیم کیا۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے معاشی مسائل اور اندرونی سیاسی بحرانوں کی وجہ سے کمزور سمجھا جاتا رہا، مگر حالیہ جنگی مظاہروں نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک دفاعی اعتبار سے اب بھی خطے کا سب سے مضبوط قلعہ ہے۔

یہ تصویر صرف اسلام آباد اور ریاض کے درمیان محدود نہیں بلکہ بیجنگ تک پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کا پاکستان کی طرف جھکاؤ دراصل چین کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔

پاکستان پہلے ہی اپنے دفاعی انحصار کا تقریباً 80 فیصد چین سے پورا کرتا ہے۔ ایف 22P فریگیٹس سے لے کر جے 10 سی لڑاکا طیاروں اور جدید ڈرونز تک، پاکستان کی عسکری طاقت کا بڑا حصہ چینی تعاون سے پروان چڑھ رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں چین نے اپنی عسکری پریڈ میں پاکستانی قیادت کو مرکزی مقام دے کر یہ اعلان کیا کہ اس کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا اصل شراکت دار پاکستان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک سعودی معاہدہ مشرقی اتحاد کی نئی داستان ہے، جو امریکہ اور مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اس معاہدے کو اگر حالیہ پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت دوچند ہو جاتی ہے۔ بھارت نے اپنی مذہبی انتہا پسندی کے زیرِ اثر پاکستان پر حملہ کیا لیکن پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں نے ساری دنیا کو چونکا دیا۔

محدود دورانیے کی اس جنگ نے نہ صرف بھارت کی عسکری برتری کے تاثر کو توڑا بلکہ عرب دنیا کو بھی یہ باور کرایا کہ پاکستان کمزور نہیں بلکہ ایک مؤثر دفاعی حقیقت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلیجی قیادت نے فیصلہ کیا کہ اپنی سلامتی کے لیے پاکستان کے سائے میں آنا ضروری ہے۔

یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ صورت حال میں پاکستان کا ایک غیر متوقع محسن نریندر مودی بھی ہیں۔ جی ہاں، بھارتی وزیرِاعظم نے اپنی ہٹ دھرمی اور انتہا پسندی سے نہ صرف بھارت کو نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر طاقت کا نیا مقام دلانے میں بھی غیر ارادی طور پر بھرپور کردار ادا کیا۔

شکریہ مودی کہنا اس پس منظر میں طنزیہ ضرور ہے مگر حقیقت سے خالی نہیں کیونکہ اسی چند گھنٹوں کی جنگ نے شطرنج کی بساط الٹ کر رکھ دی اور دنیا کو نئے پیمانے طے کرنے پر مجبور کر دیا۔

ضیا چترالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں

قطر پر حملے نے عرب دنیا کو دو تلخ حقیقتوں سے روشناس کیا۔ پہلی یہ کہ غیر جانب دار ریاستیں بھی محفوظ نہیں رہ سکتیں اور دوسری یہ کہ امریکہ ہر حال میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ یہی احساس ایک نئے عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے، جس کا فوری نتیجہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔

اب ایک نئی دفاعی زنجیر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا، پاکستان پر حملہ چین پر حملہ شمار ہوگا اور چین کے ساتھ روس اور شمالی کوریا کی قربتیں بھی اس اتحاد کو مزید وسعت دے سکتی ہیں۔ یہ محض عسکری اتحاد نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔

اعداد و شمار اس تبدیلی کی سنگینی کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جو سالانہ تقریباً 75 ارب ڈالر عسکری بجٹ پر خرچ کرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ صرف 11 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، مگر پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج، پانچ لاکھ سے زائد فعال فوجی اور ایٹمی صلاحیت موجود ہے۔ یہی امتزاج سعودی عرب کو اس نتیجے پر لے آیا کہ محض ہتھیار خریدنے کے بجائے ایک تجربہ کار اور ایٹمی طاقت کے ساتھ اتحاد ہی اس کی بقا کی ضمانت ہے۔

یہاں امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈوں پر بھی نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے۔ صرف قطر کے العدید بیس پر تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ بحرین میں پانچویں امریکی بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے۔

کویت اور سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔ لیکن یہ ساری فوجیں قطر پر حملہ روکنے میں ناکام رہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عربوں کو اندازہ ہوا کہ امریکی افواج کی موجودگی محض علامتی ہے، حقیقی تحفظ کی ضمانت نہیں۔

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ اب وہ صرف اپنی سرزمین کا محافظ نہیں بلکہ حرمین شریفین کا بھی محافظ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ عرب دنیا کی آنکھوں میں اب وہ اعتبار جھلک رہا ہے جو پہلے کبھی نہ تھا۔ یہ اعتماد پاکستان کے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

اس معاہدے کے اثرات محض عرب دنیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی طاقتوں کے مابین بھی نئی کشمکش کو جنم دیں گے۔ امریکہ اور مغربی دنیا کے لیے یہ پیغام الارمنگ ہے کہ ان کی سب سے بڑی توانائی مارکیٹ اور ہتھیاروں کا خریدار اب مشرقی بلاک کی طرف مائل ہو رہا ہے۔

اسرائیل کے لیے یہ پیش رفت ایک نئے محاذ کی مانند ہے، کیونکہ پہلی بار پاکستان اس کے براہِ راست عسکری حریف کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے لیے یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ہے بلکہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کے خریداروں کا دائرہ بھی وسیع کرنے کا ذریعہ ہے۔

سب سے اہم یہ کہ عرب دنیا میں امریکہ کے خلاف اعتماد کی کمی اور پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا بھروسہ مستقبل میں نئے اتحادوں کا پیش خیمہ ہے۔ امکان ہے کہ دیگر خلیجی ممالک بھی جلد اس معاہدے میں شامل ہو جائیں گے اور جب حرمین کی فضاؤں میں پاکستانی شاہین پرواز کریں گے تو یہ صرف عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوگا بلکہ امتِ مسلمہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ہمیں یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اس اچیومینٹ کے پیچھے دراصل اہل غزہ کا مقدس لہو ہے۔ شہداء کے بہتا لہو یقیناً رائیگاں نہ جائے گا اور امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاءاللہ۔

Related Posts