قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرب و اسلامی دنیا کی نظریں ایک ایسے موقع پر مرکوز ہیں جب اسرائیل کی طرف سے رواں ہفتے قطر پر ہونے والے غیر متوقع اور غیر معمولی حملے کے بعد ایک ہنگامی سمٹ (میٹنگ) بلائی گئی ہے۔
اس سمٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ محض ایک رسمی اجلاس نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں منعقد ہورہی ہے جب قطر کے دل میں اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف مکانات کو نشانہ بنایا بلکہ خطے کے امن و سلامتی پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ قطر جسے عرصے سے فلسطینی مزاحمت اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے کردار کے حوالے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، خود اس جارحیت کا نشانہ بننے کے بعد براہِ راست تنازعے کا فریق بن گیا ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس نے اس سمٹ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسرائیل کی طرف سے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر حملہ دراصل ایک پیغام تھا کہ تل ابیب اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کسی بھی ملک کی خودمختاری کو روند سکتا ہے۔ یہ صرف قطر پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے عرب اور اسلامی دنیا نے فوری ردعمل دیا اور قطر کی میزبانی میں ایک ہنگامی سمٹ بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ اجتماعی طور پر اس جارحیت کا جواب دیا جاسکے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ یہ اجلاس محض رسمی بیانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں ایک واضح اور ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کی کوشش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قطر کے خلاف اسرائیلی حملہ بزدلانہ کارروائی ہے جس کا مقصد نہ صرف قیادت کو خوفزدہ کرنا تھا بلکہ خطے میں ثالثی اور مزاحمتی تحریکوں کے لیے سپورٹ کے کردار کو کمزور کرنا تھا۔ اسرائیلی جارحیت کے بعد دوحہ کی فضا بدلی ہوئی ہے۔ شہر کو سمٹ کے لیے سجایا گیا ہے لیکن اس کی گلیوں میں اب بھی منگل کے روز ہونے والے حملے کے دھوئیں اور دھماکوں کی گونج تازہ ہے۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان جمال رشدی نے بھی کہا کہ یہ سمٹ اس بات کا اظہار ہے کہ عرب اور مسلمان قطر کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ اسرائیلی جارحیت کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ رشدی نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ ایک اجتماعی پیغام ہوگا جو پوری دنیا تک پہنچے گا کہ قطر اکیلا نہیں ہے اور اس کی خودمختاری پر حملہ دراصل سبھی عرب و مسلم ریاستوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دوحہ اس سمٹ کے لیے تیاریوں کے آخری مرحلے میں ہے۔ وزرائے خارجہ کا اجلاس اتوار کی شام بند دروازوں کے پیچھے ہوا جس میں حتمی مسودہ تیار کرنے پر کام کیا گیا۔ اس کے بعد پیر کو سربراہانِ مملکت و حکومت اس پر بحث کریں گے اور ایک متفقہ اعلامیہ منظور کیا جائے گا۔ صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں کی غیر معمولی آمد بھی اس سمٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
قطر نیوز ایجنسی کے مطابق 200 سے زائد ملکی و غیر ملکی صحافی اور نمائندے دوحہ پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں اس سمٹ کی کوریج مؤثر انداز میں کی جاسکے۔ یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اجلاس محض ایک علامتی کارروائی نہیں بلکہ ایک تاریخی موقع ہے جو خطے کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ خطے کے عوام کے لیے یہ سمٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ماضی میں بارہا عرب اور اسلامی اجلاسوں کو محض بیانات اور قراردادوں تک محدود دیکھا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دوحہ کی یہ سمٹ ان سابقہ اجلاسوں سے مختلف ہوگی یا نہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ اب محض مذمتی بیانات کافی نہیں۔ حملہ قطر پر ہوا ہے لیکن یہ کسی بھی دوسرے ملک پر بھی ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توقعات ہیں کہ اس بار فیصلے عملی اور مؤثر ہونے چاہئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کئی امکانات زیرِ غور ہیں۔ سب سے آسان راستہ محض مذمت اور اسرائیل کے خلاف بیانات کا اجراء ہے، لیکن یہ پرانا طریقہ ہے جس سے کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ عرب و اسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو محدود یا منجمد کریں، خاص طور پر وہ ممالک جنہوں نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے یا انہیں فروغ دیا۔ اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں لیکن ایسے اقدامات اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کیونکہ تل ابیب کی حکمتِ عملی کا ایک بڑا حصہ اسی تعلقات کی توسیع پر مبنی ہے۔ ایک اور پہلو معاشی اور تجارتی بائیکاٹ کا ہے۔
اگر اسلامی اور عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کردیں یا ان کمپنیوں کا بائیکاٹ شروع کریں جو اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں تو اس کے معاشی اثرات تل ابیب کے لیے شدید ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جہازوں اور سامان بردار بحری جہازوں کے لیے عرب و اسلامی بندرگاہوں کو بند کرنا بھی ایک ایسا قدم ہے جو اسرائیل کو حقیقی دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ماہرین یہ تجویز بھی دیتے ہیں کہ بین الاقوامی عدالتوں میں اسرائیل کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں اور عالمی سطح پر اس کے خلاف باضابطہ مہم شروع کی جائے تاکہ دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ قطر کسی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیانات کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ خطے کے ممالک ایک اجتماعی ردعمل پر غور کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی طرف سے سخت بیان جاری ہونا خوش آئند ہے لیکن اب صرف بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور قطر پر حملے کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں سمجھا جارہا ہے۔ دراصل یہ سب کچھ “طوفان الاقصیٰ” کے بعد شروع ہونے والے سلسلے کی توسیع ہے جس میں اسرائیل نے نہ صرف غزہ بلکہ خطے کے کئی ممالک کو اپنی عسکری کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ قطر پر حملہ اسی توسیع کا حصہ ہے اور اسی لیے یہ مسئلہ اب ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری امت کا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس سمٹ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر لاکھوں صارفین اس بارے میں بات کررہے ہیں کہ آیا عرب و اسلامی قیادت اب کوئی عملی قدم اٹھائے گی یا نہیں۔ عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے بھی کہا ہے کہ عرب و اسلامی دنیا کے پاس کئی کارڈز ہیں جنہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سب سے اہم اقتصادی دباؤ، سفارتی تعلقات کا انقطاع اور انسانی بنیادوں پر غزہ کے لیے فوری مدد کا اہتمام ہے۔ خاص طور پر رفح بارڈر کھولنے اور غزہ میں امداد پہنچانے کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں۔ قطر اور مصر کو یہ توقع بھی ہے کہ سمٹ انہیں ایک باضابطہ مینڈیٹ دے گی تاکہ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے عمل کو زیادہ طاقت اور حمایت کے ساتھ آگے بڑھا سکیں۔ اس طرح نہ صرف مذاکراتی عمل کو تقویت ملے گی بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ قطر پر حملہ دراصل امن کی کوششوں پر حملہ تھا۔
اگر یہ مینڈیٹ دیا جاتا ہے تو دوحہ اور قاہرہ خطے میں ایک مرکزی کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔ بہرحال سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس سمٹ سے وہ کچھ حاصل ہوگا جس کی عوام کو توقع ہے۔ عسکری جواب دینے کا امکان بظاہر نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ عرب و اسلامی دنیا میں اس حوالے سے اتحاد اور تیاری موجود نہیں۔ لیکن سیاسی، سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے اسرائیل کو جھکایا جاسکتا ہے۔ فی الحال سب کی نظریں دوحہ پر لگی ہیں کہ وہاں ہونے والے فیصلے محض کاغذی نہ رہ جائیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں۔ یہ سمٹ قطر کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ اپنی قیادت اور سفارتی مہارت کے ذریعے عرب و اسلامی دنیا کو ایک ایسے بیانیے پر متفق کرسکے جو اسرائیل کے لیے ناقابل نظرانداز ہو۔ ساتھ ہی یہ اس بات کا بھی امتحان ہے کہ کیا خطے کی قیادت اپنی عوامی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے کی جرات رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ سمٹ ایک مضبوط اور عملی پیغام کے ساتھ ختم ہوئی تو یہ خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر یہ محض سابقہ اجلاسوں کی طرح بیانات اور قراردادوں یعنی نشتند، گفتند و برخاستند تک محدود رہی تو اس سے نہ صرف عوامی مایوسی بڑھے گی بلکہ اسرائیل کو مزید جارحیت پر اکسایا جائے گا۔
قطر پر حملہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ اس نے امت مسلمہ کو یہ احساس دلایا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کسی سرحد کو نہیں مانتی۔ دوحہ میں جمع ہونے والی قیادت کے پاس اب یہ موقع ہے کہ وہ تاریخ کے اس امتحان میں سرخرو ہو یا پھر ماضی کی طرح محض کاغذی بیانات کے ساتھ منتشر ہو جائے۔ دنیا کی نظریں اس وقت دوحہ پر ہیں اور یہ دیکھنے کے لیے منتظر ہیں کہ کیا واقعی یہ سمٹ اسرائیل کے خلاف ایک عملی اقدام پر منتج ہوگی یا پھر یہ بھی ایک اور موقع ہوگا جو ضائع کردیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں