بھارتی فلم ہوم باؤنڈ ریلیز سے پہلے ہی آسکر کی دوڑ میں شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

India picks Neeraj Ghaywan’s *Homebound* for the Oscars 2026
ONLINE

بھارت کے معروف فلم ساز نیراج گھایوان کی نئی فلم ہوم باؤنڈ نے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کرنے کے بعد آسکر ایوارڈز 2026 کے لیے بھارت کی آفیشل نمائندگی حاصل کر لی ہے۔

فلم فیڈریشن آف انڈیا نے کولکتہ میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ یہ فلم 98ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں بھارت کی جانب سے بھیجی جائے گی۔ اس فیصلے پر جوری کے تمام ارکان متفق تھے۔

یہ فلم پہلی بار رواں سال کانز فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی جہاں اسے بھرپور داد ملی، جب کہ حال ہی میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں تقریباً دو ہزار شائقین نے فلم کو کھڑے ہو کر کئی منٹ تک تالیاں بجا کر سراہا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by MM News (@mmnewsdottv)

گھایوان نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ناقابل یقین لمحہ ہے، میری فلم بھارت کی سرکاری انٹری کے طور پر آسکر میں شامل ہو رہی ہے، یہ میرے لیے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔

ہندی زبان میں بنائی گئی یہ فلم دراصل نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون پر مبنی ہے، جو بشارت پیر نے 2020 میں لکھا تھا۔ کہانی دو نوجوان دوستوں محمد شعیب اور چندن کمار کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے، جن کا کردار ایشان کھٹر اور وِشال جیٹھوا نے ادا کیا ہے۔

دونوں ایک چھوٹے گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور پولیس افسر بننے کا خواب دیکھتے ہیں تاکہ معاشرتی تعصب اور پسماندگی سے اوپر اٹھ سکیں تاہم کورونا لاک ڈاؤن کے دوران انہیں سیکڑوں کلو میٹر پیدل سفر کر کے اپنے گاؤں واپس جانا پڑتا ہے۔

فلم میں ذات پات، مذہب اور غربت جیسے تلخ مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف چندن کا کردار اپنی پوری شناخت چھپانے پر مجبور دکھایا گیا ہے تو دوسری طرف محمد شعیب کو بار بار مذہب کی بنیاد پر ذلت سہنی پڑتی ہے۔

گھایوان کے مطابق فلم کا اصل پیغام یہ ہے کہ لوگ اصل میں نظریات کے نہیں بلکہ حالات کے شکار ہوتے ہیں، اگر ہم تھوڑی سی انسانیت اور ہمدردی دکھا دیں تو ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔

اس فلم کی خاص بات یہ بھی ہے کہ مشہور ہالی وڈ ڈائریکٹر مارٹن اسکورسیزی نے اسے بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر سپورٹ کیا اور فلم کی اسکرین پلے اور ایڈیٹنگ کے عمل میں براہ راست حصہ لیا۔

اس کے علاوہ فلم میں جھانوی کپور، شالنی وتسہ اور شری دھر دوبے بھی شامل ہیں۔ شوٹنگ زیادہ تر بھوپال اور اس کے گردونواح میں کی گئی۔

نیراج گھایوان نے اپنی ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی فلم میں سمویا ہے۔ وہ خود ایک دلت گھرانے میں پیدا ہوئے اور برسوں اپنی شناخت چھپاتے رہے۔

جانئے امریکی سپر ماڈل بیلا حدید کا یہ تشویشناک چہرہ کس بیماری کا نتیجہ ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ فلم کے ذریعے میں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود مرد ہونے کا ایک الگ طرح کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے، یہی وہ حقیقت ہے جو دنیا کے ہر معاشرے میں مشترک ہے کہ پدرشاہی ہر جگہ موجود ہے۔

بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے آسکر کے لیے فلمیں بھیج رہا ہے لیکن تاحال بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اب تک صرف تین فلمیں مدر انڈیا (1957)، سلام بمبے! (1988) اور لگان (2001) اس کیٹگری میں نامزدگی حاصل کر پائی ہیں۔

ہوم باؤنڈ 26 ستمبر 2025 کو دنیا بھر میں ریلیز کی جائے گی اور سینما گھروں میں نمائش کے بعد براہ راست آسکر کی دوڑ میں شامل ہو گی۔

Related Posts