امریکن سپر ماڈل بیلا حدید اس ہفتے اپنے مداحوں کے سامنے ایک بالکل مختلف اور تشویشناک روپ میں آئیں۔
انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ان کی چند تصویروں نے اُن کی چمکتی دمکتی زندگی کے پیچھے چھپے درد کی وہ کہانی بیان کر دی جو اکثر روشنیوں میں گم ہو جاتی ہے۔
28 سالہ سپر ماڈل نے اپنے مداحوں کو ایسا الیکٹرانک البم دکھایا جس میں نہ ریڈ کارپٹ تھا، نہ گلیمر اور نہ ہی شوخ رنگوں کے ملبوسات۔ اس بار وہ خود تھیں خاموش، کمزور، اور حقیقت سے قریب۔
ان تصاویر میں کہیں وہ بستر پر لیٹی دکھائی دیں، آنکھوں میں نمی کے ساتھ۔ کہیں طبی آلات سے جُڑی، آکسیجن ماسک اور آئی وی ڈرپس کے سہارے وقت کاٹتی ہوئی۔ ایک اور تصویر میں، وہ مسکرا بھی رہی تھیں، مگر ہاتھوں میں ایک نرم کھلونا تھا۔ جیسے بچپن کی کوئی چھوٹی سی ڈھارس، بڑے دکھوں کے بیچ سہارا دے رہی ہو۔
یہ تصاویر ایک ہی دن کی نہیں لگتیں۔ کبھی وہ دھاری دار سویٹر میں لپٹی ہوئی، کبھی سفید ٹینک ٹاپ میں زرد چہرہ لیے۔ یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ بیلا کی جنگ لمحاتی نہیں بلکہ ایک طویل سفر ہے، جو شاید اُن کے مداح پہلی بار اتنی قربت سے دیکھ پا رہے ہیں۔
بیلا حدید کس بیماری کا شکار ہیں؟
بیلا حدید گزشتہ کئی برسوں سے Lyme Disease لائم نامی بیماری کا شکار ہیں، جو ایک خطرناک بیکٹیریل انفیکشن ہے اور عام طور پر ٹک (tick) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔
بیلا حدید، اُن کی والدہ یولانڈا حدید اور بھائی انور حدید کو 2012 میں اس مرض کی تشخیص ہوئی تھی۔ تاہم بیلا کے مطابق وہ تقریباً 15 سال سے اس بیماری کی تکلیف دہ علامات جھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک “خاموش اور نظر نہ آنے والی اذیت” ہے جس نے ان کی زندگی کو گہرے اثرات دیے ہیں۔
اس مرض کے باعث بیلا کو کئی سال تک شدید تھکن، دماغی دباؤ، نیند کے مسائل اور اعصابی کمزوری جیسے عوارض کا سامنا رہا۔ حال ہی میں انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ان کی تصاویر میں وہ بستر پر لیٹی ہوئی، آنکھوں میں آنسو لیے اور طبی آلات سے جُڑی نظر آئیں، جس نے دنیا بھر کے مداحوں کو فکر مند کر دیا۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر لائم بیماری کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ طویل مدتی (کرانک) صورت اختیار کر لیتی ہے اور مریض کی جسمانی و ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ بیلا حدید نے اس بیماری کے باوجود ماڈلنگ کیریئر جاری رکھا اور کئی بار عالمی سطح پر اپنے کام سے مداحوں کو متاثر کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








