کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے تین خواجہ سرا افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں مبینہ طور پر گولی مار کر قتل کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ سرا افراد کی لاشیں ایک سنسان مقام سے ملیں۔ اطلاعات ملنے پر کرائم سین یونٹ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کے قریب سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو مقتولین کی شناخت میں مدد دے سکے۔
تفتیشی افسران کے مطابق خواجہ سرا افراد کو سر، سینے اور ہاتھوں پر گولیاں ماری گئیں۔ ایس ایچ او میمن گوٹھ جاوید آبرو کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔
شادی کا جھانسہ دیکر ایک ماہ زیادتی کرتا رہا؛ چار سدہ پولیس نے ٹک ٹاکر کو گرفتار کرلیا
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ ایک ویران علاقہ ہے جہاں سے دو نائن ایم ایم گولیوں کے خول ملے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خواجہ سرا سڑک کنارے لفٹ کے انتظار میں کھڑے تھے اسی دوران کسی نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گیا۔
یہ امر قابل غور ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں خواجہ سرا افراد کا سماجی کردار محدود ہوتا ہے اور انہیں عموماً بے ضرر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں ان کا یوں قتل کیا جانا ممکنہ طور پر کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








