وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں اسمارٹ ویسٹ مینجمنٹ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں میں پانچ مختلف رنگوں کے ڈسٹ بنز لازمی رکھے جائیں گے تاکہ کچرے کی درست چھانٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ عمل 30 ستمبر 2025 تک مکمل کیا جانا ہے اور یکم اکتوبر 2025 سے اداروں کی باقاعدہ جانچ پڑتال شروع ہو گی۔ خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
ساہیوال میں نئی تاریخ رقم؛ الیکٹرک بسیں، سیفٹی کیمرے اور مفت وائی فائی
پروجیکٹ کی نگرانی صوبائی وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی مریم اورنگزیب کریں گی جبکہ وزیر تعلیم رانا سکندر اور وزیر بلدیات ذیشان ملک کو عمل درآمد کے اہداف دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہر رنگ مخصوص کچرے کے لیے ہوگا، پیلا ڈسٹ بن کاغذی کچرے کے لیے، سبز بوتلوں کے لیے، سرخ شیشے اور لیبارٹری ویسٹ کے لیے جبکہ دھاتیں علیحدہ ڈبوں میں جمع ہوں گی۔ یہ تمام مواد ری سائیکلنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ماحولیات کے محکمے کی ٹیمیں، بلدیاتی اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے افسران کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کی نگرانی کریں گے۔ تمام تقاضے پورے کرنے والے اداروں کو اعزازی سرٹیفکیٹس دیے جائیں گے۔
دوسری جانب وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں جانوروں کے چارے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
وزیر برائے لائیو اسٹاک اور ریسکیو عاشق حسین کرمانی نے بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب سے 47 لاکھ جانور متاثر ہوئے، جن میں سے 22 لاکھ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 20 لاکھ جانوروں کو ویکسین لگائی گئی۔ اس کے باوجود 824 جانور ہلاک ہوگئے۔
وزیرِاعلیٰ نے زور دیا کہ لائیو اسٹاک کے وسائل کو محفوظ بنایا جائے اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








