صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے دو مختلف علاقوں میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں ایک شادی شدہ خاتون اور ایک نوجوان نے زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پہلا واقعہ چترال ٹاؤن کے گاؤں دواشش جغور میں پیش آیا جہاں 27 سالہ خورشید علی خان جو پرئیت گاؤں کے باشندے، اعلی تعلیم یافتہ اور آرمی پبلک اسکول میں فزکس کے استاد تھے، کو ان کے کمرے میں مبینہ طور پر پھندا ڈالے ہوئے پایا گیا۔
چترال سٹی کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر سجاد حسین کے مطابق واقعہ کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
دوسرا واقعہ گرم چشمہ میں درج ہوا جہاں شادی شدہ خاتون کلثوم بی بی مبینہ طور پر دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر بیٹھی۔
زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، دو روز گزر گئے، ڈاکٹر مشعل کریم کا کوئی سراغ نہیں لگ سکا، شوہر گرفتار
لوٹ کوہ کے سب ڈویژنل پولیس افسر حسن اللہ نے بتایا کہ متوفیہ ایک بیٹے اور چار بیٹیوں کی ماں تھیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق وہ ذہنی بیماری میں مبتلا تھیں۔
چترال میں خودکشیوں کا سنگین ہوتا مسئلہ
علاقائی ذرائع اور متعدد رپورٹس کے مطابق چترال علاقے کو ملک میں خودکشی کے حوالے سے ایک ہاٹ اسپاٹ سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر چترال کے نوجوانوں اور خواتین میں خودکشی کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے۔
مقامی انتظامیہ، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن میں ذہنی صحت کی سہولتوں کی فراہمی، شعورِعام مہمات اور خاندانی و سماجی معاونت کے نیٹ ورکس کی مضبوطی شامل ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی متعلقہ معلومات کی صورت میں فوری طور پر قریبی تھانے یا ریسکیو حکام سے رابطہ کریں تاکہ انصاف اور مناسب طبی/سماجی مدد فراہم کی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








