امریکہ نے سال 2027 کے لیے ڈیورسٹی ویزا لاٹری (گرین کارڈ لاٹری) پروگرام کا اعلان کر دیا ہے جو اکتوبر 2025 کے آغاز میں کھولا جائے گا۔ یہ پروگرام ہر سال اُن ممالک کے شہریوں کو 55 ہزار تک امیگرنٹ ویزے فراہم کرتا ہے جہاں سے امریکہ میں ہجرت کی شرح کم رہی ہے۔
پہلی بار رجسٹریشن فیس متعارف
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس بار ایک نئی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت درخواست دہندگان کو ایک ڈالر کی الیکٹرانک رجسٹریشن فیس ادا کرنا ہو گی۔ یہ فیس 16 اکتوبر 2025 سے لاگو ہوگی اور اس کا مقصد درخواستوں کے انتظامی اخراجات کو پورا کرنا ہے۔
ہر سال اس پروگرام کے تحت 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوتی ہیں مگر صرف ایک محدود تعداد کو ویزے کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔
درخواست کا طریقہ اور مدت
درخواستیں صرف آن لائن اور سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے ہی قبول کی جائیں گی۔ کاغذی درخواستوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈی وی-2027 کے لیے اپلائی کرنے کی مدت اکتوبر سے نومبر 2025 کے آغاز تک متوقع ہے، تاہم حتمی تاریخوں کا اعلان جلد ہی محکمہ خارجہ کی جانب سے کیا جائے گا۔
کون لوگ اہل ہوں گے؟
اہلیت کے لیے امیدوار کا تعلق ایسے ملک سے ہونا چاہیے جس کی امریکہ میں ہجرت کی شرح کم ہو۔ اس کے علاوہ، امیدوار کے پاس کم از کم:
ہائی اسکول کی تعلیم یا مساوی تعلیمی قابلیت ہو
یا
پچھلے پانچ برسوں میں دو سالہ تجربے والا کوئی ایسا پیشہ ہو جو کم از کم دو سال کی تربیت یا مہارت کا متقاضی ہو۔
سعودی عرب کا 95واں یومِ الوطنی؛ پاکستانی بھی جشن آزادی میں شریک
درخواست میں کیا درکار ہوگا؟
درخواست دیتے وقت امیدواروں کو اپنی مکمل ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی جن میں تعلیمی پس منظر، پاسپورٹ کی معلومات، امریکی ویزا معیار کے مطابق حالیہ ڈیجیٹل تصویرشامل ہیں۔
درخواست مکمل ہونے اور ایک ڈالر فیس جمع کرانے کے بعد امیدوار کو کنفرمیشن نمبر دیا جائے گا جسکے ذریعے وہ مئی 2026 میں اپنا انتخابی اسٹیٹس چیک کرسکیں گے۔ حکومت کی جانب سے ای میل، فون کال یا خط کے ذریعے کوئی اطلاع نہیں دی جاتی۔
فیس کی واپسی ممکن نہیں
یہ فیس ناقابل واپسی ہوگی خواہ درخواست منتخب ہو یا نہیں یا درخواست گزار آگے ویزا اپلائی کرے یا نہ کرے۔ فیس صرف سرکاری امریکی ادائیگی نظام کے ذریعے ہی ادا کی جا سکتی ہے البتہ ویزا اپلائی کرنے کے بعد جو 300 ڈالر ویزا فیس ہے وہ پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔
جعلسازی روکنے کی کوشش
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فیس سے نہ صرف انتظامی بوجھ کم ہوگا بلکہ ممکنہ جعلسازی، جعلی درخواستوں اور تیسرے فریق کے ذریعے دوہری درخواستوں میں بھی کمی آئے گی تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فیس غریب ممالک کے افراد کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے خاص طور پر وہاں جہاں ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع محدود ہیں یا کرنسی تبادلے کے اضافی اخراجات آتے ہیں۔
محتاط رہنے کی ہدایت
امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈی وی لاٹری میں شرکت کا واحد راستہ سرکاری ویب سائٹ ہے۔ کسی نجی ادارے یا فرد کے پاس انتخاب کے امکانات بڑھانے کا کوئی اختیار نہیں۔ عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی جعلی سروس یا غیر ضروری فیس سے محتاط رہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








