ہالی وڈ کے لیجنڈری اداکار رابرٹ ریڈفورڈ کی حالیہ دنوں وفات کے بعد ایک پرانا قتل کیس ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔
یاہو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ریڈفورڈ کی بیٹی شاونا ریڈفورڈ جب یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر میں زیرِ تعلیم تھیں تو ان کے بوائے فرینڈ اور ساتھی طالب علم سڈ ویلز کو یکم اگست 1983 کو اس کے اپارٹمنٹ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر رابرٹ ریڈفورڈ اپنی فلم The Natural کی تیاری میں مصروف تھے، مگر بیٹی کے دکھ میں فوراً شریک ہوئے اور مقتول کے جنازے میں بھی شامل ہوئے۔
ابتدائی طور پر پولیس نے ویلز کے روم میٹ تھین ایلن سمیتا کو گرفتار کیا، مگر ناکافی شواہد کے باعث اسے چھوڑ دیا گیا۔ 1986 میں سمیتا پراسرار طور پر غائب ہو گیا اور آج تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ 2010 میں ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر اس کی دوبارہ گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے، مگر وہ تاحال مفرور ہے۔
رابرٹ ریڈفورڈ اس کیس میں شروع سے دلچسپی لیتے رہے اور یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ اٹارنی کو فون کر کے شکریہ ادا کیا کہ وہ کیس پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مقتول کے اہل خانہ کے لیے ابتدائی دنوں میں سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا تھا۔
ریڈفورڈ کی وفات کے اگلے ہی روز ایف بی آئی نے اعلان کیا کہ تھین سمیتا کی گرفتاری پر 10 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا، جبکہ اس کی ضمانت پہلے ہی پانچ ملین ڈالر مقرر ہے۔
یہ کیس آج بھی حل طلب ہے اور رابرٹ ریڈفورڈ کی موت نے ایک بار پھر اس دردناک واقعے کو تازہ کر دیا ہے جس نے ان کی بیٹی اور پورے خاندان کو دہائیوں قبل صدمے سے دوچار کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








