لاہور: ملتان چونگی میں ایک وائرل ویڈیو نے شہر اور سوشل میڈیا پر کھلبلی مچا دی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک گھریلو ملازمہ کو گھر کے مالک اور اس کے ساتھ موجود ایک مرد کی طرف سے شدید تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں ایک مرد کو بیڈ پر پڑی خاتون پر مکے، لاتیں رسید کرتے، بال کھینچتے اور مار پیٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور مرد بھی اس واقعے میں شامل دکھائی دیتا ہے۔ واقعے کی منظر کشی نے عوامی غم و غصہ اور انصاف کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس واقعے کے حوالے سے غم وغصے کے ساتھ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس شخص نے خاتون کے ساتھ یہ سلوک دوسرے مردوں کے سامنے کیوں نہیں کیا، اور گھریلو ملازماؤں کے حقوق و تحفظ کا فقدان کس حد تک سنگین ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ گھریلوں ملازماؤں کو انسانی حقوق کے دائرے میں مکمل تحفظ دیا جانا چاہیے کیونکہ انہیں اکثر ’جانور‘ سمجھ کر بے دردی سے بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں انصاف بھی کم ملتا ہے۔
لاہور ملتان چونگی میں گھر کا مالک حیوان بن گیا گھریلوں ملازمہ پر شدید تشدد 😥😡 pic.twitter.com/gZOhtXt3Jv
— Sarim Habib (@sarimhabib007) September 26, 2025
متعدد افراد نے فوراً سی سی ٹی وی فوٹیج کی بحالی اور متعلقہ شواہد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔
عوامی مطالبے میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر ویڈیو میں دکھائے جانے والے ملزمان کا تعلق اسی گھر اور محلے سے ثابت ہوتا ہے تو پولیس کو فوری طور پر مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ طبی معائنے اور فارنسک شواہد بھی مقدمے کی مضبوطی کے لیے ضروری قرار دیے جا رہے ہیں۔
کئی تبصروں میں یہ رائے بھی سامنے آئی کہ ویڈیو کا مواد کچھ مشکوک یا آہستہ آہستہ پھیلنے والا ہو سکتا ہے، لہٰذا غیر مستند دعووں سے بچتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کے مطابق شواہد کی بنیاد پر ہی حتمی فیصلے کیے جائیں۔
بعض صارفین نے کہا کہ خاتون پوری طرح ملازمہ معلوم نہیں ہوتی مگر قطع نظر از اس کے، کسی بھی انسان کے ساتھ اس طرح کا ظلم بہرحال ناقابلِ معافی ہے اور سزا کا مستحق ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








