یمن کی حدود میں راس العیسی بندرگاہ کے قریب ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں بحری جہاز پر بھاری آگ بھڑک اٹھی اور اس پر سوار 27 پاکستانی عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ جہاز ایران سے یمن تیل لے کر جا رہا تھا کہ اچانک حملے کا نشانہ بنا، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی پر بڑھتے ہوئے خطرات نے تشویش پیدا کر دی ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق جہاز میں بنیادی فائر فائٹنگ آلات ہی موجود نہیں تھے، جس کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششیں ناممکن ہو گئیں۔ حملے کے بعد عملے کو کچھ دیر کے لیے نکالا گیا لیکن بعد میں دوبارہ جلتے ہوئے جہاز پر بھیج دیا گیا، جس نے عملے کی حفاظت اور فیصلوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
نجی چینل اے آر وائی نے جہاز پر پھنسے پاکستانی عملے کا ویڈیو پیغام نشر کیا، جس میں وہ ایک کمرے تک محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں عملہ واضح طور پر پریشان حال نظر آ رہا تھا اور فوری مدد کی اپیل کر رہا تھا۔ انہوں نے بگڑتی ہوئی صورتحال اور مزید حملے یا دھماکے کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔
پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ نے حکومت سے فوری مداخلت اور اپنے پیاروں کو بچانے کی پرزور اپیل کی ہے۔ تاہم اسلام آباد کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








