اسرائیل نواز بین الاقوامی امریکی کافی کمپنی اسٹاربکس کو عالمی بائیکاٹ مہم کے نتیجے میں شدید دھچکا لگا ہے۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی امریکا میں اپنی کمزور کارکردگی دکھانے والی متعدد شاخوں کو بند کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 900 ملازمین فارغ کر دیے جائیں گے۔
یہ اقدام ایک ارب ڈالر مالیت کی تنظیم نو منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلسل گرتی ہوئی فروخت اور برانڈ کے داغدار تشخص کو سنبھالنا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد اکتوبر 2023 سے اسٹاربکس کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی خطوں میں کمپنی کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور ایک بڑے فرنچائز ہولڈر “الشایِع کمپنی” کو دو ہزار کے قریب ملازمین فارغ کرنے پڑے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف شمالی امریکا میں اسٹاربکس کی فروخت مسلسل چھٹے سہ ماہی میں کمی کا شکار ہے، جبکہ مہنگے مشروبات کی مانگ بھی کم ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بائیکاٹ مہم محض نعرہ نہیں بلکہ عملی طاقت رکھتی ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں چلائی جانے والی عالمی بائیکاٹ مہم نے اسٹاربکس جیسی بڑی کمپنی کی کمر توڑ دی ہے، اس لیے عوام کو ایسے بائیکاٹ کو معمولی یا غیر مؤثر سمجھنے کی بجائے اس میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








