کراچی: ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں فوری طور پر 50 روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے نوٹس نہ لیا تو شدید مالی نقصان کے ساتھ ساتھ مویشی بھوک سے مرنے لگیں گے۔
یہ اعلان ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
رہنماؤں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے ڈیری شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے بعد دودھ کی پیداوار میں استعمال ہونے والے تقریباً تمام اخراجات 30 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے کسانوں کے لیے دودھ کی فراہمی کو برقرار رکھنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے! پاکستان اسٹیل ملز کے جنرل منیجر چوری کے الزام میں گرفتار
ایسوسی ایشن کے مطابق دودھ کی فراہمی کے آپریشنز میں روزانہ 3 ارب روپے تک کا نقصان ہورہا ہے۔ کراچی میں ایک ملین سے زائد گائے اور بھینسیں موجود ہیں جو روزانہ تقریباً 50 لاکھ لیٹر دودھ پیدا کرتی ہیں تاہم بڑھتے اخراجات نے اس شعبے کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔
ڈیری فارمرز نے واضح کیا کہ اس وقت دودھ کی فی لیٹر قیمت 220 روپے ہے، جو پیداواری لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
ان کے مطابق دودھ کی قیمت کو 270 روپے فی لیٹر تک بڑھانا ناگزیر ہے تاکہ یہ شعبہ مزید تباہی سے بچ سکے۔ بصورت دیگر مویشیوں کو چارہ اور دیگر بنیادی ضروریات نہ ملنے کی وجہ سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
رہنماؤں نے حکومت سندھ کو 1 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس تاریخ تک دودھ کی قیمت میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو ڈیری فارمرز وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر بھرپور احتجاج کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








