امریکا کی ریاست مشی گن کے علاقے گرینڈ بلینک ٹاؤن شپ میں اتوار کے روز ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جب سابق امریکی میرین نے چرچ پر حملہ کرتے ہوئے چار افراد کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کردیا،حملہ آور کو پولیس نے جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا۔
برٹن شہر کارہائشی اور میرین کا سابق فوجی 40 سالہ تھامس جیکب سینفورڈاپنی گاڑی کے ذریعے چرچ آف جیزز کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوا۔
اس کے بعد اس نے خودکار رائفل سے فائرنگ شروع کی اور پٹرول چھڑک کر چرچ کو آگ لگا دی۔ واقعہ کے وقت چرچ میں سیکڑوں افراد موجود تھے، جنہیں اچانک بھگدڑ اور خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔
An active shooting-terror attack just took place at the Church of Jesus Christ of Latter-day Saints in Grand Blanc, Michigan.
The terrorist rammed his truck through the front of the large church, then began shooting attendees and set the church on fire..
I would given it a 98%… pic.twitter.com/qIuLmAhCd5
— Alex Jones (@RealAlexJones) September 28, 2025
پولیس کے مطابق دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ آٹھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں آگ بجھنے کے بعد چرچ کے جلے ہوئے حصے سے مزید دو لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس چیف ولیم رینئے نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ کچھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے صرف 30 سیکنڈ بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور آٹھ منٹ کے اندر اندر حملہ آور کو چرچ کے باہر فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ جائے وقوعہ سے دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس واقعے کو ٹارگٹڈ وائلنس یعنی منصوبہ بند تشدد کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
فوجی ریکارڈ کے مطابق سینفورڈ نے 2004 سے 2008 تک امریکی میرین میں خدمات انجام دیں اور عراق میں تعینات رہا۔ تفتیش کار اس کے گھر اور فون سے مزید شواہد تلاش کر رہے ہیں تاکہ محرکات کا تعین کیا جا سکے۔
جرمانے کے پیغام کے پیچھے چھپا ہے ہیکنگ کا خطرہ! آن لائن فراڈ کی نئی شکل سامنے آگئی
عینی شاہدین نے واقعے کو نہایت خوفناک قرار دیا۔ ایک خاتون نے بتایاکہ میں نے اپنے دوست کھو دیے ہیں اور سنڈے اسکول کے ننھے بچے بھی زخمی ہوئے ہیں، یہ میرے لیے انتہائی دلخراش ہے۔ ایک اور شخص نے دروازے ٹوٹنے کے بعد زوردار دھماکے جیسی آواز سننے کا ذکر کیا۔
اس افسوسناک سانحے پر ملک بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے عیسائیوں پر ایک اور منصوبہ بند حملہ قرار دیا اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ بڑھتی ہوئی پرتشدد وارداتوں کو روکا جا سکے۔
چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کی انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ واقعہ امریکہ میں رواں سال کا 324واں اجتماعی فائرنگ کا واقعہ ہے۔ سانحہ ایسے وقت پیش آیا جب چند گھنٹے قبل ہی شمالی کیرولائنا کے ایک واٹر فرنٹ بار میں تین افراد اور ٹیکساس کے ایگل پاس کے ایک کیسینو میں دو افراد فائرنگ میں ہلاک ہوچکے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








