تاجکستان میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کی ایک مسجد کو رقص گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ویڈیو میں خواتین رنگ برنگے لباس پہن کر رقص کرتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ منظر ایک مسجد کے اندر کا ہے۔
Tajikistan, a 97% Muslim-majority nation that had already banned burqas and hijabs, is now turning mosques into dance halls to fight radicalization.
Do you like this idea? pic.twitter.com/WWl9SjctSL
— Dr. Maalouf (@realMaalouf) September 28, 2025
وائرل پوسٹ کے مطابق تاجکستان جو 97 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ملک ہے اور جہاں پہلے ہی برقع اور حجاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے نے مبینہ طور پر شدت پسندی کے خلاف مہم کے حصے کے طور پر مساجد کو ڈانس ہالز میں بدلنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پوسٹ کے کیپشن میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا آپ کو یہ خیال پسند آیا؟
اس ویڈیو نے صارفین میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھاکہ مساجد کا مذاق اڑانا ترقی پسندی نہیں بلکہ روح کی پستی ہے۔
حیرت ہے کہ وہ کبھی یہ جرات نہیں کرتے کہ کسی چرچ یا یہودی عبادت گاہ کو ڈانس ہال میں بدلیں۔ احترام یا تو سب کے لیے ہے یا پھر یہ محض منافقت ہے۔
پاکستان کی شکست پر جشن مناتے افغانیوں کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین برہم
ویڈیو کی اصلیت پر شکوک و شبہات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ یہ مقام واقعی مسجد ہے یا نہیں۔ ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو دراصل تاجکستان کی نہیں بلکہ ازبکستان کے مشہور ریگستان اسکوائر میں بنائی گئی ہے، جو ایک تاریخی مقام ہے۔
اس واقعے نے آن لائن دنیا میں مذہبی حساسیت، ثقافتی احترام اور ریاستی پالیسیوں پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








