غزہ منصوبے پر وزیراعظم کی حمایت، عوام کا شدید ردعمل، غداری قرار دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

تینوں رہنما وائٹ ہاؤس میں، فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو واشنگٹن کے نئے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت پر سراہا ہے، تاہم ملک کے اندر وزیراعظم شدید تنقید کی زد میں ہیں، کیونکہ ناقدین کے مطابق یہ منصوبہ دراصل اسرائیل کے مبینہ نسل کشی کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے۔

سابقہ ٹوئٹر (ایکس) پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن خطے کے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی “قیادت” اور ایلچی اسٹیو وٹکوف کی “کوششوں” کو سراہا، ساتھ ہی دو ریاستی حل کو “پائیدار امن کے لیے لازمی” قرار دیا لیکن عوامی ردعمل یکسر مخالف رہا۔

چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر شدید غصہ بھڑک اٹھا۔ صارفین نے شہباز شریف پر الزام لگایا کہ وہ “واشنگٹن کو خوش کر رہے ہیں”، “پاکستان کا دیرینہ مؤقف دفن کر دیا”، اور “ایک ٹویٹ میں اسرائیل کو جواز فراہم کر دیا”۔

اداکارہ سکینہ سموں نے تبصرہ کیا: “ٹرمپ کی قیادت میں؟ ہرگز نہیں۔ یہ منصوبہ سراسر ناانصافی ہے۔”

دوسرے لوگوں نے اسے “قبضے کا نیا نام” اور “امریکی طاقت کا کھلا مظاہرہ” کہا۔ کسی نے اسے سیدھا سیدھا “جال” قرار دیا۔

ایک صارف نے لکھا: “ہم پاکستانی فیصلہ نہیں کر سکتے کہ فلسطینی کیا چاہتے ہیں۔ جب 70 ہزار شہری مارے جا چکے ہیں تو غزہ کو غیر مسلح کیسے کیا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل اپنی ڈھال قائم رکھے؟”

ایک اور صارف نے یاد دلایا: “ہماری فلسطینی عوام کے ساتھ ذمہ داری صرف مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ نوآبادیاتی جبر کی مخالفت کی وجہ سے بھی ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کا مطلب ہے نسل کشی اور قابض ریاست کا ساتھ دینا۔”

ایک تیسرے صارف نے زور دیا: “نہ قابض طاقتیں اور نہ ہی بیرونی کھلاڑی فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ فلسطین کو آزادی، انصاف اور نسل پرستی کا خاتمہ چاہیے، کھوکھلے منصوبے نہیں۔”

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے بجائے امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دیتا ہے۔ معاہدے کے تحت غزہ کا انتظام ایک بین الاقوامی “بورڈ آف پیس” کے حوالے کر دیا جائے گا جس کی سربراہی ٹرمپ کریں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کو صرف “اصلاحات” کے بعد کنٹرول ملے گا اور مستقبل کی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ غزہ مکمل طور پر غیر مسلح ہوگا۔

منصوبے کی شق نمبر 9  جس میں غزہ کا کنٹرول “بورڈ آف پیس” کو دینے کا ذکر ہے، کو ناقدین نے پورے ایجنڈے کا خلاصہ قرار دیا۔

بہت سے لوگوں کے نزدیک شہباز شریف کی حمایت سفارت کاری نہیں بلکہ سرنڈر لگتی ہے۔ جیسا کہ ایک صارف نے کہا: “انصاف کے بغیر امن ایک کھوکھلا لفظ ہے۔ بلا شرط حمایت دراصل غداری ہے۔”

پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا لیکن شہباز شریف کے اس بیان کو عوام ایک نرم یو ٹرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسا یو ٹرن جسے معاف کرنا مشکل ہے۔

ایک وائرل ٹویٹ میں خبردار کیا گیا: “تاریخ اس غداری کو یاد رکھے گی۔”

Related Posts