فلپائن کے وسطی علاقے سیبو میں منگل کی رات ایک شدید زلزلے نے تباہی مچائی جس کی شدت 6.9 ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق، زلزلے نے عمارات کو منہدم کردیا اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا جس میں تین پلوں اور ایک سڑک کا شامل ہونا بھی رپورٹ ہوا جو مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئے ہیں۔
فلپائن کے ادارہ برائے آتش فشاں و زلزلہ پیمائی نے بتایا کہ یہ زلزلہ رات 10 بجے سے کچھ پہلے آیا اور اس کے بعد کئی ہلکے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ سیبو جہاں 32 لاکھ افراد آباد ہیں اس زلزلے کا مرکز تھا۔
The Cebu government encourages residents to keep on monitoring updates and to stay outside as much as possible as the province continues to experience aftershocks.
This after Cebu was hit with a magnitude 6.9 earthquake on Tuesday night, September 30. #ANCHeadstart pic.twitter.com/QCbagUJmuf
— ABS-CBN News (@ABSCBNNews) October 1, 2025
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے مطابق مرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد سیبو کے بوگو ڈسٹرکٹ سے رپورٹ ہوئی جہاں سان ریمیجیو قصبے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق سان ریمیجیو میں چار ہلاکتیں ایک اسپورٹس کمپلیکس کے منہدم ہونے سے ہوئیں جہاں لوگ باسکٹ بال کھیل رہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں فائر پروٹیکشن بیورو اور فلپائن کوسٹ گارڈ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک بچہ بھی ملبے میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
Photo shows the effects of 6.9 magnitude earthquake at the Archdiocesan Shrine of Santa Rosa de Lima in Barangay Poblacion, Cebu on Tuesday night.
The local government of Daanbantayan, Cebu is appealing to the public not to touch any of the coral stones in the vicinity of the… pic.twitter.com/DYhSEv0f5C
— The Philippine Star (@PhilippineStar) October 1, 2025
زلزلے کے بعد مسلسل بارشوں اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے نے امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈالی۔ سان ریمیجیو کے نائب میئر نے بتایا کہ کئی پل ناقابل عبور ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ لوگوں کو پانی، خوراک اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہے۔ انہوں نے فوری طور پر خیموں، پینے کے پانی اور کم تیاری والے کھانے کی اپیل کی ہے۔
سیبو کی گورنر نے فوری امدادی سامان، پانی اور ادویات کی ترسیل کے احکامات دیے ہیں اور سڑکوں کی صفائی کے لیے مشینری بھی روانہ کی گئی ہے۔ ساؤتھ کوٹاباٹو صوبے سے بھی امدادی سامان اور میڈیکل ٹیم سیبو کے لیے روانہ کی جا رہی ہے۔

ایک مقامی رہائشی ایما سینٹیلن نے بتایا کہ زلزلے کے دوران انکا گھر شدید لرزا جس سے وہ اور ان کا خاندان خوفزدہ ہو گیا۔ یہ دنیا کے خاتمے جیسا لگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دعائیں مانگیں، پناہ لی اور باہر بھاگے۔ تمام پڑوسی بھی باہر نکل آئے تھے۔
سرکاری حکام نے سیبو میں بدھ کے روز اسکولوں اور سرکاری عمارات کو بند رکھنے کا اعلان کیا تاکہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ سیبو کے آرچ ڈائیوسیز نے کہا کہ گرجا گھر شدید متاثر ہوئے ہیں اور انہیں معائنہ تک عبادت کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی تاریخی عمارات، فاسٹ فوڈ ریستورانوں اور اپارٹمنٹس کو نقصان پہنچا ہے۔

زلزلے کے بعد سمندری سطح میں معمولی تبدیلی کی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن بعد میں خطرہ ٹلنے پر اسے منسوخ کر دیا گیا۔
فلپائن جو 7,000 سے زائد جزائر پر مشتمل ہے اور رنگ آف فائر پر واقع ہے زلزلوں کا شکار رہتا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 2023 میں 6.7 شدت کے زلزلے نے جنوبی فلپائن کو ہلایا تھا، جس میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل جولائی 2023 اور 2019 میں بھی شدید زلزلے آئے تھے جن میں کئی اموات ہوئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








