ٹرمپ کا غزہ پلان: امن یا سرنڈر کی دستاویز؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Trump’s Gaza Plan: A Peace Built on Surrender, Not Justice

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ کے لیے بیس نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جسے واشنگٹن اور تل ابیب میں ایک انقلابی فارمولہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

منصوبے میں فائربندی، یرغمالیوں کی رہائی، تعمیر نو اور بین الاقوامی نگرانی کے ذریعے غزہ میں استحکام لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق یہ امن منصوبہ کم اور ایک الٹی میٹم زیادہ معلوم ہوتا ہے، جس کا بنیادی ڈھانچہ جبر پر مبنی ہے۔

اس کے مطابق حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے، غزہ پر کنٹرول ختم کرنے اور ایک بین الاقوامی عبوری انتظامیہ قبول کرنے کے بعد ہی انسانی امداد میسر ہوگی۔

مسلم دنیا میں اس منصوبے کو امن نہیں بلکہ سرنڈر کا دوسرا نام قرار دیا جا رہا ہے، جو دراصل اسرائیل کے طویل المدتی منصوبے یعنی گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرتا ہے۔

منصوبے کی ترتیب ہی اس کے عزائم ظاہر کرتی ہے۔ فائربندی اور انسانی امداد کو حماس کے فوری طور پر ہتھیار ڈالنے اور بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کے شہریوں کو روٹی اور دوائی صرف اسی وقت ملے گی جب ان کے رہنما مزاحمت ترک کر دیں۔ ماہرین کے نزدیک یہ امن فارمولہ نہیں بلکہ ایک مسلح گروہ کو شکست تسلیم کرانے کی دستاویز ہے، جو فریقین کے درمیان مساوی معاہدہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

اس منصوبے میں فلسطینی کردار بالکل غیر موجود ہے۔ حماس یا کسی فلسطینی گروہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھائے بغیر یہ شرائط یکطرفہ طور پر عائد کی گئی ہیں۔

ہتھیار ڈالنے، اقتدار چھوڑنے اور اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی ختم کرنے جیسے نکات ایک ڈکٹیٹ کی شکل میں رکھے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی شمولیت کے بغیر کوئی بھی منصوبہ نہ تو خودمختاری کی ضمانت دے سکتا ہے اور نہ ہی عوامی تائید حاصل کر سکتا ہے۔

منصوبے کے تحت غزہ کو اپنے عوام کے بجائے ایک بین الاقوامی اتھارٹی کے سپرد کیا جانا ہے جو تعمیر نو اور سیکورٹی کا انتظام کرے گی۔

یوکرین جنگ سے آگے: دنیا کا نیا معاشی نقشہ

انسانی حقوق کے گروپس خبردار کر رہے ہیں کہ فلسطینی رضامندی کے بغیر یہ بین الاقوامی نگرانی دراصل ایک نئی قسم کا قبضہ ثابت ہو سکتی ہے، جو کاغذ پر تو امن لائے گی مگر زمینی حقیقت میں وفاداری حاصل نہ کر پائے گی۔

حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ بمباری روک سکتا ہے، یرغمالیوں کو رہا کروا سکتا ہے اور امداد کے راستے کھول سکتا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی حل کے بغیر مسلط کردہ فائربندیاں پائیدار نہیں ہوتیں۔

ہتھیار ڈالنے کے بدلے سیاسی عمل سے محرومی مزید چھوٹے اور شدت پسند گروہوں کو جنم دیتی ہے۔ تعمیر نو اگر خودمختاری کے بغیر ہو تو وہ بدعنوانی اور انحصار کو فروغ دیتی ہے۔ اسی طرح سیکورٹی اگر صرف اسرائیل کے مفاد میں دی جائے تو یہ امن نہیں بلکہ مزید تنازعات کی بنیاد بنتی ہے۔

عرب اور مسلم ریاستوں کے لیے بھی یہ منصوبہ ایک بڑی آزمائش ہے۔ چند حکومتیں دباؤ کم کرنے یا تعمیر نو کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے اس کی حمایت کر سکتی ہیں، مگر عوامی سطح پر یہ سخت ناپسند کیا جا رہا ہے۔

کروڑوں لوگ غزہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو عزت کی بجائے صرف وقتی ریلیف دے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لوگوں کو بمباری کے ذریعے سرنڈر پر مجبور کرنا اور پھر امداد کو امن کا نام دینا ایک دھوکہ ہے، جو نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے میں مزید بے چینی کو جنم دے گا۔

مسلم دنیا فلسطین کو بین الاقوامی انصاف کا معیار سمجھتی ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے اور غزہ کو بین الاقوامی نگرانی کے تحت رکھ کر ریاستی تشخص، قبضے کے خاتمے اور پناہ گزینوں کے حقوق جیسے مسائل پس پشت ڈال دے، امن نہیں بلکہ مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔

ناقدین کے مطابق اس سے اسرائیل کے طویل المدتی عزائم مزید مضبوط ہوں گے، جس کے تحت مغربی کنارے پر بستیوں کا پھیلاؤ، مشرقی یروشلم پر قبضہ اور غزہ کی غیر مسلح حیثیت ایک گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو حقیقت کا روپ دے گی۔

یہ منصوبہ وقتی طور پر خاموشی تو لا سکتا ہے، مگر وہ بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتا جو تنازعے کی جڑ ہیں۔ قبضہ، بے وطنی، جلاوطنی اور عدم مساوات وہ عوامل ہیں جنہیں نظرانداز کر کے کوئی بھی امن پائیدار نہیں ہو سکتا۔ امن اگر وقار کے بغیر ہو تو وہ امن نہیں بلکہ جبر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ بظاہر ایک جرات مندانہ تجویز ہے، مگر اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ مساوات کے اصول کو یکسر نظرانداز کرتا ہے۔ فلسطینیوں کو امداد کے بدلے ہتھیار ڈالنے کا کہا جا رہا ہے، مسلم دنیا کو ایک بار پھر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اسرائیل کے لیے یہ ایک سفارتی کامیابی ہے جو سمجھوتے کے لبادے میں چھپی ہوئی ہے۔

یہ منصوبہ وقتی طور پر بمباری روک سکتا ہے، مگر اس کے اثرات ایک زیادہ خطرناک ورثہ چھوڑ جائیں گے: ایک خاموش فلسطین، تقسیم شدہ مسلم دنیا، اور ایسا امن جو انصاف پر نہیں بلکہ سرنڈر پر مبنی ہو۔

مصنف ڈیوکام سینٹر فار جیوپولیٹیکل اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پالیسی تجزیہ کار ہیں جن کی توجہ خطے میں تعاون اور ماحولیاتی سفارت کاری پر ہے۔ ان کا ای میل

: devcom.Pakistan@gmail.com

Related Posts