وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے کاروبار، تعلیم اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے نئی سہولتوں کا آغاز کر دیا ہے، حکومتی عہدیداروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نوجوان نسل کو بہتر مستقبل بنانے کے لیے درکار وسائل فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت نوجوان کاروباری حضرات 3 لاکھ سے 6 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے لے کر اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔
وہ نوجوان جو بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے خصوصی قرضے رکھے گئے ہیں جو ویزا اور سفر کے اخراجات پورے کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
رواں سال حکومت نے اس پروگرام کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ اس سے قبل مختلف مراحل میں 186 ارب روپے سے زائد نوجوانوں کو دیے جا چکے ہیں۔
یہ پروگرام صرف مالی معاونت تک محدود نہیں۔ ایک ڈیجیٹل یوتھ ہب قائم کیا گیا ہے جو نوجوانوں کو ٹریننگ پروگرامز اور ملک بھر میں روزگار کے مواقع سے جوڑے گا۔
عوام کیلئے خوشخبری! سرکاری نوکریوں کا اعلان، اپلائی کرنے کا طریقہ
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھی بڑی پیش رفت کی گئی ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت اکتوبر تک 1 لاکھ لیپ ٹاپ طلبہ کو فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسکالرشپس اور یونیورسٹی گرانٹس بھی بحال کی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
کھیل اور ثقافت کو بھی اس پروگرام میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ ارشد ندیم جیسے کھلاڑیوں کو پروفیشنل ٹریننگ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی کھیلوں جیسے ٹنٹ پیگنگ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بھی اہم کامیابی حاصل کی ہے اور کامن ویلتھ یوتھ الائنس سیکریٹریٹ اور یوتھ منسٹرز ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ اپنے نام کر لی ہے جس سے 56 ممالک کے ساتھ شراکت داری کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔
مستقبل کے منصوبوں میں ایک یوتھ فیسٹیول بھی شامل ہے، جس میں اسٹارٹ اپ گائیڈنس، جاب فیئرز اور عالمی ماہرین کی ماسٹر کلاسز شامل ہوں گی۔ حکام نے زور دیا ہے کہ پروگرام کے ہر مرحلے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








