بی آئی ایس پی مستفیدین کیلئے بڑی خوشخبری! اضافی سہولتوں کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

مونوگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، فائل فوٹو

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کا اجلاس سینیٹر سردار الحاج محمد عمر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور پاکستان بیت المال کی کارکردگی، منصوبوں اور مالی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسر اور سینیٹر روبینہ قائم خانی شریک ہوئے جبکہ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کمیٹی کو اہم معاملات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے 11 افسران، جو زیادہ تر محکمہ تعلیم سے ہیں، اس وقت ڈپیوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ صحت کے کسی سینئر افسر کو ڈپیوٹیشن پر تعینات نہیں کیا گیا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ ڈپیوٹیشن کی ایسی پالیسیوں سے اصل محکموں کے کام متاثر ہوتے ہیں اور جب افسران واپس جاتے ہیں تو ادارہ جاتی یادداشت کو نقصان پہنچتا ہے۔

عوام کیلئے خوشخبری! ہر خاندان کو 13 ہزار 500 روپے ملیں گے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی اپنی کارکردگی مضبوط کرنے کے لیے نیا عملہ بھرتی کرنا چاہتا ہے لیکن مالی مشکلات کے باعث وزارتِ خزانہ کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے بھرتیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں وزیر خزانہ کو طلب کیا جائے تاکہ نئی تقرریوں کے لیے فنڈنگ پر بات ہو سکے۔

رجسٹریشن کے عمل پر وضاحت کرتے ہوئے سینیٹر خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں اہلیت کا تعین سخت غربت کے سروے کے معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں کسی بیرونی اثرانداز ہونے کی گنجائش نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی کو دنیا کے شفاف ترین سماجی تحفظ کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے اور کئی ممالک اس ماڈل کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین سردار الحاج محمد عمر نے غربت کے خاتمے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو سراہا اور ملک بھر میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ایک قومی منصوبہ ہے، جسے کسی سیاسی وابستگی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

کمیٹی کو بے نظیر نشوونما پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی، جو عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے اشتراک سے چل رہا ہے۔ یہ پروگرام بچوں کو غذائی سہولیات، صحت کی خدمات اور سہ ماہی طبی معائنے فراہم کرتا ہے اور حکام کے مطابق اس سے ملک میں غذائی عدم تحفظ میں 6.4 فیصد کمی آئی ہے۔

Related Posts