مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے۔ ایک ایسا منصوبہ سامنے آیا ہے جو نہ صرف حکومت چلانے کے انداز کو بدل دے گا بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو حیرت میں ڈال دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو پہلی بار انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت حکومتی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ تاریخ ساز تبدیلی کہاں اور کس کے زیرِ سرپرستی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے؟
اس حیران کن سفر کا آغاز ابوظہبی سے ہو رہا ہے۔ ولی عہد و ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی موجودگی میں، نائب حکمران ابوظہبی شیخ طحنون بن زاید النہیان کی زیر صدارت آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں 2025 تا 2027 کی ڈیجیٹل اسٹریٹجی کا جائزہ لیا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت ابوظہبی کو 2027 تک دنیا کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی حکومت میں ڈھالا جائے گا۔
پرنس رحیم آغاخان اور شیخ الازہر عالم اسلام میں اعتدال اور مکالمے کو فروغ دینے کیلئے ایک ہوگئے
اماراتی خبر رساں ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق اجلاس میں نہ صرف اس اسٹریٹجی کا جائزہ لیا گیا بلکہ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے مختلف منصوبوں، سرمایہ کاری اور تحقیقی سرگرمیوں پر پیش رفت بھی سامنے رکھی گئی۔
شیخ طحنون بن زاید نے اس موقع پر ابوظہبی حکومت کے ملازمین کے لیے جاری تربیتی پروگراموں اور عوامی آگاہی مہمات کو سراہا، جن کا مقصد معاشرے کو ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات امارات کو اختراع اور ٹیکنالوجی کے عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہے ہیں، جو مستقبل کے شعبوں میں ملک کے اقتصادی کردار کو مضبوط بنانے کے عین مطابق ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کونسل صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن کے تحت مستقبل کے جدید شعبوں کو بھرپور سپورٹ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پالیسی سازی، سرمایہ کاری، تحقیق اور عالمی شراکت داریوں پر خاص زور دیا جا رہا ہے تاکہ ابوظہبی کو دنیا بھر کے ٹیلنٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک نمایاں مقام بنایا جا سکے۔
اجلاس میں خدمات کی بہتری، معیارِ زندگی کو بلند کرنے اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات سے ہم آہنگ مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔ ساتھ ہی ابوظہبی کی مستقبل کی اے آئی ویژن پر بریفنگ دی گئی، جس میں عالمی سطح کی کمپنیوں اور ہنرمند افراد کو متوجہ کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔
شرکاء کو ان اہم منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جو مختلف قومی اداروں کی قیادت میں جاری ہیں، جن میں ابوظہبی ڈویلپمنٹل ہولڈنگ کمپنی، ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک)، محکمہ گورنمنٹ انیبلمنٹ اور محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس شامل ہیں۔
یاد رہے کہ جنوری 2024 میں قیام کے بعد سے یہ کونسل مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی، تحقیق اور اختراعی اقدامات میں سرگرم ہے، تاکہ ابوظہبی میں ان ٹیکنالوجیز کا تیز تر اور مؤثر نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








